انوارالاسلام — Page 20
روحانی خزائن جلد ۹ حاشیہ نمبر ۲ نکته لطیفه انوار الاسلام یہ بھی ایک سنت اللہ ہے کہ وہ اپنی پیشگوئیوں اور نشانوں کو اس طور سے ظہور میں لاتا ہے کہ وہ ایک خاص ایسے طائفہ کے لئے مفید ہوں جو اس کے کاموں میں تدبر کرنے والے اور سوچنے والے اور اس کی حکمتوں اور مصالح کی تہ تک پہنچنے والے اور عقلمند اور پاکیزہ طبع اور لطیف الفہم اور زیرک اور متقی اور اپنی فطرت سے سعید اور شریف اور نجیب ہوں اور اس طائفہ کو وہ باہر رکھتا ہے جوسفلہ مزاج اور جلد باز اور سطحی خیالات والے اور حق شناسی سے عاجز اور سوء ظن کی طرف جلد جھکنے والے اور فطرتی شقاوت کا اپنے پر داغ رکھتے ہیں وہ نافہموں کے دلوں پر رجس ڈال دیتا ہے یعنی کچھ پردہ رکھ دیتا ہے ۔ تب ان کو نور ایک تاریکی دکھائی دیتا ہے ۔ اور اپنی آرزوؤں کی پیروی کرتے ہیں اور ان کو چاہتے ہیں اور سوچنے کا مادہ نہیں رکھتے اور خدا تعالیٰ کے اس فعل سے غرض یہ ہوتی ہے کہ تا خبیث کو طیب کے ساتھ شامل نہ ہونے دے اور اپنے نشانوں پر ایسے پردے ڈال دے جو نا پاک طبع کو پاکوں کے ساتھ شامل ہونے سے روک دیں اور پاک طبع لوگوں کا ایمان زیادہ کریں اور علم زیادہ کریں اور معرفت زیادہ کریں ۔ اور صدق اور ثبات میں ترقی دیں اور ان کی زیر کی اور حقائق شناسی دنیا پر ظاہر کریں اور ان کو اس کسر شان اور بے عزتی سے محفوظ رکھیں جو اس حالت میں متصور ہے کہ جب ایک سبح طبع اور سفلہ خیال اور نفس پرست اور نادان اُن کی جماعت میں شامل ہو جائے اور ان کے ہم پہلو جگہ لے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے جو اس کی جماعت کے آب زلال کے ساتھ کوئی پلید مادہ نہ مل جائے اس لئے وہ ایسی خصوصیت کے ساتھ اپنے نشانوں کو ظاہر کرتا ہے کہ جس خصوصیت سے نبی اور نا پاک طبع لوگ حصہ نہیں لے سکتے اور صرف اس رفیع الشان نشان کو رفیع الشان لوگ دریافت کرتے ہیں اور اپنے ایمان کو اس سے زیادہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ قادر تھا کہ کوئی ایسا نشان دکھاتا کہ تمام موٹی عقل کے آدمی اور پست فطرت انسان جو صد ہا نفسانی زنجیروں میں مبتلا ہیں