انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 581

انوارالاسلام — Page 119

روحانی خزائن جلد ۹ 119 انوار الاسلام میں مشغول ہوں گے ۔ کیا اس طوفان سے یہ غرض ہوتی ہے کہ کشتی والوں کو صرف خفیف خفیف چوٹیں لگیں مگر ہلاک نہ ہوں اے شیخ ذرا شرم کرنا چاہیے اس قدر عقل کیوں ماری گئی کہ نصوص بدیہیہ سے انکار کئے جاتے ہو ۔ قولہ: یونس کا وعدہ بھی شرطیہ تھا۔ الجواب : فتح البیان اور ابن کثیر اور معالم کو دیکھو یعنی سورۃ الانبیاء سورہ یونس اور والصافات (۱۳) کی تفسیر پڑھوا اور تفسیر کبیر صفحہ ۱۸۸ سے غور سے پڑھو تا معلوم ہو کہ ابتلا کی وجہ کیا تھی یہی تو تھی کہ حضرت یونس قطعی طور پر عذاب کو سمجھے تھے اگر کوئی شرط منجانب اللہ ہوتی تو یہ ابتلا کیوں آتا ۔ چنانچہ صاحب تفسیر کبیر لکھتا ہے انھم لما لم يؤمنوا اوعدهم بالعذاب فلما كشف العذاب منهم بعد ما تو عدهم خرج منهم مغاضبا یعنی یونس نے اس وقت عذاب کی خبر سنائی جبکہ اس قوم کے ایمان سے نومید ہو چکا پس جبکہ عذاب ان پر سے اٹھایا گیا تو غضب ناک ہو کر نکل گیا پس ان تفسیروں سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اوّل یونس نے اس قوم کے ایمان کے لئے بہت کوشش کی اور جبکہ کوشش بے سود معلوم ہوئی اور پاس کلی نظر آئی تو انہوں نے خدا تعالیٰ کی وحی سے عذاب کا وعدہ دیا جو تین دن کے بعد نازل ہوگا اور صاحب تفسیر کبیر نے جو پہلا قول نقل کیا ہے اس کے سمجھنے میں نادان شیخ نے دھوکا کھایا ہے اور نہیں سوچا کہ اس کے آگے صفحہ ۱۸۸ میں وہ عبارت لکھی ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ عذاب موت کی پیشگوئی بلا شرط تھی اور یہی آخری قول قول مفسرین اور ابن مسعود اور حسن اور شعبی اور سعید بن جبیر اور وہب کا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ جس حالت میں وعدہ کی تاریخ ٹلنا نصوص قرآنیہ قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے جیسا کہ آیت وَوَعَدْنَا مُوسى ثَلْثِینَ لَيْلَةً ۔ اس کی شاہد ناطق ہے تو وعید کی تاریخیں جو نزول عذاب پر دال ہوتی ہیں جس کا ٹلنا اور رد بلا ہونا تو بہ اور استغفار اور الاعراف:۱۴۳