انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 581

انوارالاسلام — Page 118

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۱۸ انوار الاسلام نظیر دو الجواب اے نادان اس کی نظیر قرآن آپ دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے لبِنُ انجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَتَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ فَلَمَّا أَغْجُهُمْ إِذَاهُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ الجز و نمبر 11 ۔ اب ظاہر ہے کہ ان آیات کا حاصل مطلب یہی ہے کہ جب بعض گنہگاروں کو ہلاک کرنے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے قہری ارادہ سے اس دریا میں صورت طوفان پیدا کرتا ہے جس میں ان لوگوں کی کشتی ہو تو پھر ان کی تضرع اور رجوع پر ان کو بچا لیتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ پھر وہ مفسدانہ حرکات بقیه حاشیه : قطعی وعدہ خیال کرتا ہو اسی وجہ سے المیعاد پر جو الف لام ہے وہ عہد ذہنی کی قسم میں سے ہے یعنی وہ امر جوا رادہ قدیمہ میں وعدہ کے نام سے موسوم ہے گو انسان کو اس کی تفاصیل پر علم ہو یا نہ ہو ۔ وہ غیر متبدل ہے ورنہ ممکن ہے جو انسان جس بشارت کو وعدہ کی صورت میں سمجھتا ہے اس کے ساتھ کوئی ایسی شرط مخفی ہو جس کا عدم تحقق اس بشارت کے عدم تحقق کے لئے ضرور ہو کیونکہ شرائط کا ظاہر کرنا اللہ جل شانہ پر حق واجب نہیں ہے چنانچہ اسی بحث کو شاہ ولی اللہ صاحب نے بسط سے لکھا ہے اور مولوی عبد الحق صاحب دہلوی نے بھی فتوح الغیب کی شرح میں اس میں بہت عمدہ بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلحم کا بدر کی لڑائی میں تضرع اور دعا کرنا اسی خیال سے تھا کہ الہی مواعید اور بشارات میں احتمال شرط مخفی ہے اور یہ اس لئے سنت اللہ ہے کہ تا اس کے خاص بندوں پر ثیت اور عظمت الہی مستولی ہو ۔ پس ماحصل کلام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں بے شک تخلف نہیں ۔ وہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں پورے ہو جاتے ہیں لیکن انسان ناقص العقل کبھی ان کو تخلف کی صورت میں سمجھ لیتا ہے کیونکہ بعض ایسی مخفی شرائط پر اطلاع نہیں پاتا جو پیشنگوئی کو دوسرے رنگ میں لے آتے ہیں ۔ اور ہم لکھ چکے ہیں کہ الہامی پیشگوئیوں میں یہ یادر رکھنے کے لائق ہے کہ وہ ہمیشہ ان شرائط کے لحاظ سے پوری ہوتی ہیں جو سنت اللہ میں اور الہی کتاب میں مندرج ہو چکی ہیں گو وہ شرائط کسی ولی کے الہام میں ہوں یا نہ ہوں ۔ منہ ا یونس : ۲۴۲۳