انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 581

انوارالاسلام — Page 113

روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام چند اخباروں میں چھپوا دیا جائے گا اور اس تمسک میں ضامنوں کی طرف سے یہ اقرار ہو گا کہ اگر تاریخ تمسک سے ایک سال تک پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور 10 آتھم صاحب صحیح و سالم رہے تو یہ کل روپیہ آتھم صاحب کی ملکیت ہو جائے گا۔ ور نہ ضامن کل روپیہ بلا توقف واپس کریں گے ۔ اب آخر میں ہم پھر آتھم صاحب کو حضرت عیسی مسیح کی عزت کو بطور سفارشی پیش کر کے اس زندہ خدا کی قسم دیتے ہیں ۔ جو جھوٹوں اور بچوں کو خوب جانتا ہے کہ اس طریق تصفیہ کو ہر گز رد نہ کریں ۔ وہ تو بقول خود ہمارا جھوٹا ہونا اور ہمارے الہام کا باطل ہونا اور مسیح کا معین و مددگار ہو نا تجربہ کر چکے اب کیوں بعد تجربہ کے مرے جاتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ میری عمر قریب ۶۴ یا ۶۸ برس کی ہے اے صاحب بموجب قول ساٹھا پاٹھا کے آپ تو ابھی بچے ہیں کون سی بڑی عمر ہو گئی ہے ۔ ماسوا اس کے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا زندہ رکھنا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں ۔ یہ کیسی بے ایمان قوم ہے جو اپنے تئیں سچا سمجھ کر پھر بھی خدا تعالیٰ پر تو کل نہیں کر سکتی ۔ دیکھو میری عمر بھی تو قریب ساٹھ برس کے ہے اور ہم اور آتھم صاحب ایک ہی قانون قدرت کے نیچے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مقابلہ کے وقت ضرور مجھے زندہ رکھ لے گا کیونکہ ہما را خدا قادر اور حستی و قیوم ہے مریم عاجزہ کے بیٹے کی طرح نہیں اور ہم اس اشتہار کے بعد پھر ایک ہفتہ تک انتظار کریں گے ۔ اے ہماری قوم کے اندھونیم عیسا ئیو کیا تم نے نہیں سمجھا کہ کس کی فتح ہوئی ۔ کیا حق بجانب آدمی کی وہ نشانیاں ہیں جو آتھم صاحب ظاہر کر رہے ہیں یا یہ نشانیاں جو ان پر ہیبت اور متواتر اشتہارات سے روشن ہو رہی ہیں ۔ کیا یہ استقامت کسی جھوٹے میں آ سکتی ہے جب تک خدا تعالیٰ اس کے ساتھ نہ ہو ۔ اور اگر یہ کہو کہ یہ سب سچ مگر نشان کون سا ظا ہر ہوا