انوارالاسلام — Page 112
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۱۲ انوار الاسلام معزز عیسائی کا حوالہ دے سکتے ہیں جس نے شہادت کے لئے حاضر ہو کر قسم کھانے سے انکار کیا ہو۔ اب مناسب ہے کہ اگر آتھم صاحب کو بہر حال حیلہ سازی ہی پسند ہے اور کسی طرح قسم کھانا نہیں چاہتے تو اس عذر بے ہودہ کو اب چھوڑ دیں کہ قسم کھانا ممنوع ہے کیونکہ پورے طور پر ہم نے اس کی بیخ کنی کر دی ہے بلکہ چاہیے کہ اپنے دجالوں کے مشورہ سے جان بچانے کے لئے کوئی نیا عذر پیش کریں اور نیم عیسائی یا درکھیں کہ آتھم صاحب کبھی قسم نہیں کھائیں گے بلکہ اس عذر کو چھوڑ کر کوئی اور دجالی حیلہ نکالیں گے کیونکہ ہماری نسبت وہ اپنے دل میں جانتے ہیں کہ ہم بچے اور ہمارا الہام سچا ہے لیکن کوئی عذر پیش نہیں جائے گا جب تک میدان میں آ کر ہمارے روبرو گرفتم نہ اٹھا ویں یقینا آتھم صاحب تمام پادریوں اور نیم عیسائیوں کے منہ پر سیاہی مل رہے ہیں جو قسم نہیں کھاتے۔ ایک عیسائی صاحب لکھتے ہیں کہ روپیہ دینا صرف لاف و گزاف ہے یعنی آتھم صاحب قسم تو کھا لیں مگر ان کو یہ دھڑ کہ ہے کہ روپیہ نہیں ملے گا۔ سو یا در ہے کہ یہ بالکل فضول گوئی اور ڈوموں کی طرح صرف رندانہ کلام ہے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم قسم کھانے سے پہلے با ضابطہ تمسک لے کر حسب شرائط اشتہار ۹ رستمبر ۱۸۹۴ ء ۲۰۰ ستمبر ۹۴ کل روپیه آتھم صاحب کے ضامنوں کے حوالہ کر دیں گے اور ہمیں منظور ہے کہ آتھم صاحب کے دو داماد ہیں جو معزز عہدوں پر ہیں ضامن ہو جائیں اگر ہم تکمیل تمسک کے بعد ایک طرفتہ العین کی بھی روپیہ دینے میں توقف کریں تو بلا شبہ ہم جھوٹے ٹھہریں گے اور ضامنوں کو اختیار ہوگا کہ ہمیں آتھم صاحب کی دہلیز میں پیر نہ رکھنے دیں جب تک بعد تکمیل تمسک روپیہ وصول نہ کرلیں اور ایسا انتظام ہوگا کہ دس معزز گواہ کے روبرو اور ان کی وساطت سے روپیہ دیا جائے گا اور تمسک لیا جائے گا اور ان دل گواہوں کی اس تمسک پر شہادت ہوگی اور وہ تمسک