انوارالاسلام — Page 107
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۰۷ انوار الاسلام کا یہ ممانعت قسم کا بہانہ ان کی بد دیانتی اور ردی حالت کی کھلے طور پر قلعی کھولتا ہے کیونکہ اس بہانہ کوکوئی بھی باور نہیں کر سکتا کہ مسیح کے تمام حواری اور پولس رسول ممنوعات انجیل میں گرفتار ہو کر ایمانی دولت سے بے نصیب رہے اور یہ ایمان آتھم صاحب کے ہی حصہ میں آیا اور پھر مجھے یہ دعویٰ بھی سراسر جھوٹ معلوم ہوتا ہے کہ آتھم صاحب نے اب تک کسی عدالت میں قسم نہیں کھائی اور تمام حکام اس بات پر راضی رہے کہ آتھم صاحب کسی شہادت کے ادا کرنے کے وقت بغیر قسم اظہار لکھوا دیا کریں اور نہ میں یہ باور کرسکتا ہوں کہ اگر آتھم صاحب اب بھی کسی شہادت کے لئے بلائے جائیں تو یہ عذر پیش کریں کہ چونکہ میں پارلیمنٹ کے ممبروں اور تمام متعہد عیسائی ملازموں حتی کہ گورنر جنرل سے بھی زیادہ ایماندار ہوں اس لئے ہر گز فتم نہیں کھاؤں گا۔ آتھم صاحب خوب جانتے ہیں کہ بائبل میں نبیوں کی قسمیں بھی مذکور ہیں خود سی قسم کا پابند ہوا دیکھومتی ۲۷ باب ۶۳ آیت خدا نے قسم کھائی دیکھو اعمال کے باب ۶ آیت ۱۷۔ اور خدا کا قسم کھانا بموجب عقید ہ عیسائیوں کے مسیح کا قسم کھانا ہے کیونکہ بقول ان کے دونوں ایک ہیں اور جو شخص مسیح کے نمونہ پر اپنی عادات اور اخلاق نہیں رکھتا وہ میسیج میں سے نہیں ہے۔ اور یرمیا کی تعلیم کی رو سے قسم کھانا عبادت میں داخل ہے دیکھو یرمیا باب ۴ آیت ۲۔ اور زبور میں لکھا ہے کہ جو جھوٹا ہے وہی قسم نہیں کھاتا دیکھو زبور ۶۳ آیت ۱۱۔ سو آتھم صاحب کے جھوٹا ہونے پر داؤد نبی حضرت عیسی کے دادا ) صاحب بھی گواہی دیتے ہیں۔ فرشتے بھی قسم کھاتے ہیں دیکھو مکا شفات یا پھر عبرانیوں کے چھ باب ۱۶ آیت میں مسیحیوں کا معلم کہتا ہے کہ ہر یک قضیہ کی حد قسم ہے یعنی ہر یک جھگڑا آخر قسم پر فیصلہ پاتا ہے۔ توریت میں خدا نے برکت دینے کے لئے قسم کھائی۔ نوٹ: وہ بولا خداوند کی قسم جس کے آگے میں کھڑا ہوں ۔ سلاطین ۵/۱۶ ۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' ۲۶ باب “ ہونا چاہیے۔(ناشر)