انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 581

انوارالاسلام — Page 106

روحانی خزائن جلد ۹ 1+4 انوار الاسلام نے اس کو شیطان کا لقب بھی دیا ہے مگر میں راستباز ہوں اور پطرس سے بہتر اس لئے قسم کھانا بے ایمانی سمجھتا ہوں تو ان کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے کہ آپ کے پولس رسول (1) نے بھی جو بقول عیسائیاں حضرت موسی سے بھی بڑھ کر ہے قسم کھائی ہے اگر اس کو بھی آپ کو ایمان سے جواب دیں تو خیر آپ کی مرضی اور اگر یہ سوال ہو کہ قسم کھانے کا ثبوت کیا ہے تو قرنتیان ۱۵ باب ۳۱ آیت دیکھ لیں جس میں پولس صاحب فرماتے ہیں مجھے تمہارے اس فخر کی جو ہمارے خداوند مسیح یسوع سے ہے قسم کہ میں ہر روز مرتا ہوں ۔ اس جگہ ناظرین خوب غور سے سوچیں کہ جس حالت میں پطرس اور پولس رسول قسم کھائیں اور آتھم صاحب قسم کھانا بے ایمانی قرار دیں یعنی شرعی ممنوعات کی مد میں رکھیں جس کا ارتکاب بلا شبہ بے ایمانی ہے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ حسب قول آتھم صاحب مسیح کے تمام حواری اور پولس رسول سب ممنوعات انجیل کے مرتکب اور ایمانی حدود سے تجاوز کرنے والے تھے کیونکہ بعضوں نے ان میں سے قسمیں کھائیں اور بعض اس طرح پر بے ایمانی کے کاموں میں شریک ہوئے کہ قسم کھانے والوں سے جدا نہ ہوئے اور نہ امر معروف اور نہی منکر کیا لیکن آج تک بجز آتھم صاحب کے کسی عیسائی نے اس اعتقاد کو شائع نہیں کیا کہ حضرت مسیح کے تمام حواری یہاں تک کہ پولس رسول بھی ایمانی دولت سے تہی دست اور بے نصیب اور ممنوعات انجیل میں مبتلا تھے صرف اٹھارہ سو برس کے بعد آتھم صاحب کو یہ ایمان دیا گیا تعجب کہ اس قوم کے جھوٹ اور بددیانتی کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ اپنے نفس کے بچاؤ کے لئے اپنے بزرگوں کو بھی دولت ایمان سے بے نصیب قرار دیتے ہیں اگر آتھم صاحب جان بچانے کے لئے صرف یہ بہانہ کرتے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ میں سال تک مرنہ جاؤں تو اس صورت میں لوگوں کو فقط اتنا ہی خیال ہوتا کہ اس شخص کا ایمان مسیح کی طاقت اور قدرت پر ضعیف ہے اور در حقیقت اپنے دل میں اس کو قادر نہیں سمجھتا لیکن آتھم صاحب