انوارالاسلام — Page 81
روحانی خزائن جلد ۹۔ Al انوار الاسلام اگر آ تم تم کھا کر پھر اندرہی اندر رجوع کرلے تو چاہیے کہ عذاب ٹل جائے تو اس صورت میں ایک شریر انسان کے لئے بڑی گنجائش ہے اور ربانی پیشگوئیوں کا بالکل اعتبار اٹھ جائے گا۔ الجواب : قسم کھانے کے بعد خداتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ فیصلہ قطعی کرے سو تم کے بعد ایسے مکار کا پوشیدہ رجوع ہرگز قبول نہیں ہوگا کیونکہ اس میں ایک دنیا کی تباہی ہے اور قسم فیصلہ کے لئے ہے اور جب فیصلہ نہ ہوا اور کوئی مکار پوشیدہ رجوع کر کے حق پر پردہ ڈال سکا تو دنیا میں گمراہی پھیل جائے گی اس لئے قسم کے بعد خدا تعالیٰ کا عزما یہ ارادہ ہوتا ہے کہ حق کو باطل سے علیحدہ کر دے تا امر مشتبہ کا فیصلہ ہو جائے۔ (۸) آٹھواں اعتراض ۔ یہ ہے کہ اگر صداقت کا صرف اقبال یا اقرار باعث تاخیر موت ہے تو ہم اہل اسلام کو کبھی موت نہیں آنی چاہیے کیونکہ صداقت کے پیرو ہیں۔ جبکہ دشمن خدا ذرا سے منافقانہ رجوع کے باعث جو وہ بھی پوشیدہ ہے موت سے بچ جائے تو ہم جو علی رؤس الاشهاد رجوع کئے بیٹھے ہیں۔ بے شک حیات جاودانی کے مستحق ہیں۔ الجواب: عزیز من جو لوگ بچے دل سے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور پھر بعد اس کے ایسے کام نہیں کرتے جو اس کلمہ کے مخالف ہیں بلکہ تو حید کو اپنے دل پر وارد کر کے رسالت محمدیہ کے جھنڈے کے نیچے ایسی استقامت سے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کوئی ہولناک آواز بندوق یا توپ کی ان کو اس جگہ سے جنبش نہیں دے سکتی اور نہ تیز تلواروں کی چمکیں ان کی آنکھوں کو خیرہ کر سکتی ہیں اور نہ وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو کر اس جھنڈے سے باہر آسکتے ہیں بیشک وہ لوگ حیات جاودانی پائیں گے کس خبیث نے کہا کہ نہیں پائیں گے اور وہ دائمی زندگی کے ضرور ہی وارث ہوں گے کون ملعون کہتا ہے کہ نہیں وارث ہوں گے لیکن ایک کا فریا فاسق کا خوف کے دنوں میں کچھ مدت تک عذاب سے بچ جانا یہ خدارحیم کی طرف سے ایک مہلت دینا ہے تا شاید وہ ایمان لاوے یا اس پر حجت پوری ہو جائے اور جب اللہ تعالیٰ ایک کافر کو اپنے غضب کی آگ سے ہلاک کرنا چاہے تو