انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 581

انوارالاسلام — Page 80

روحانی خزائن جلد ۹ ۸۰ انوار الاسلام کو نہیں سمجھتے کہ انسان کی فطرت میں یہ بھی ایک خاصہ ہے کہ وہ باوجود شقی از لی ہونے کے شدت خوف اور ہول کے وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیتا ہے لیکن اپنی شقاوت کی وجہ سے پھر بلا سے رہائی پاکر اس کا دل سخت ہو جاتا ہے جیسے فرعون کا دل ہر ایک رہائی کے وقت سخت ہو تا رہا سوا ایسے رجوع کا نام خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں منافقانہ رجوع نہیں رکھا کیونکہ منافق کے دل میں کوئی سچا خوف نازل نہیں ہوتا اور اس کے دل پر حق کا رعب اثر نہیں ڈالتا لیکن اس شقی کے دل میں راہ راست کی عظمت کو خیال میں لاکر ایک سچا خوف پیشگوئی کے سننے کے وقت میں بال بال میں پھر جاتا ہے مگر چونکہ شقی ہے اس لئے یہ خوف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک نزول عذاب کا اس کو اندیشہ ہوتا ہے اس کی مثالیں قرآن کریم اور بائبل میں بکثرت ہیں جن کو ہم نے رسالہ انوار الاسلام میں تفصیل لکھ دیا ہے غرض منافقانہ رجوع در حقیقت رجوع نہیں ہے لیکن جو خوف کے وقت میں ایک شقی کے دل میں واقعی طور پر ایک ہر اس اور اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے اس کو خدا تعالیٰ نے رجوع میں ہی داخل رکھا ہے اور سنت اللہ نے ایسے رجوع کو دنیوی عذاب میں تاخیر پڑنے کا موجب ٹھہرایا ہے گو اخروی عذاب ایسے رجوع سے مل نہیں سکتا مگر دنیوی عذاب ہمیشہ ملتا رہا ہے اور دوسرے وقت پر پڑتا رہا ہے۔ قرآن کو غور سے دیکھو اور جہالت کی باتیں مت کرو اور یاد رہے کہ آیت لَنْ يُؤَخِّرَ اللهُ نَفْسًا لے کو اس مقام سے کچھ تعلق نہیں اس آیت کا تو مدعا یہ ہے کہ جب تقدیر مبرم آ جاتی ہے تو ٹل نہیں سکتی مگر اس جگہ بحث تقدیر معلق میں ہے جو مشروط بشرائط ہے جبکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے کہ میں استغفار اور تضرع اور غلبہ خوف کے وقت میں عذاب کو کفار کے سر پر سے ٹال دیتا ہوں اور ٹالتا رہا ہوں پس اس سے بڑھ کر سچا گواہ اور کون ہے جس کی شہادت قبول کی جائے۔ (۷) ساتواں اعتراض ۔ یہ ہے اگر رجوع کے بعد عذاب ٹل سکتا ہے تو اب بھی ل المنافقون : ١٢