انجام آتھم — Page 52
۵۲ روحانی خزائن جلد ۱۱ رساله دعوت قوم (۵۲) قُلْ عِندى شهادة مِّن الله فهَل انتم مُسْلِمُون ۔ إِنَّ مَعِيَ رَبِّى کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرتے ہو۔ میرے ساتھ میرا خدا ہے وہ عنقریب سَيَهْدِين ۔ قُلْ إِنْ كُنتُم تَحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ اللَّهِ ۔ هَلْ مجھے کامیابی کی راہ دکھائے گا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہولو تا خدا بھی تم سے محبت کرے أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تنزّل الشَّيَاطِين تنزل عَلى كُلّ أَفَّاكِ اثيم۔ يُريدُونَ کیا میں بتلاؤں کہ کن پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ ہر ایک جھوٹے مفتری پر اتر تے ہیں ۔ ارادہ کرتے ہیں أنْ يُطْفِئُوا نور الله بأفواههم والله مُتِم نُوره ولو كرة الكافِرُونَ کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کے پھوکوں سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو کامل کرے گا اگر چہ کا فر کراہت ہی کریں سنلقي في قلوبهمُ الرُّعبَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفتح وانتهى أَمرِ الزَمَانِ عنقریب ہم ان کے دلوں پر رعب ڈال دیں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ کا امر ہماری طرف رجوع الينا اليس هذا بِالحَق إِنّى مَعَكَ كُن مَعِي أَينما كُنتَ۔ كُن مَعَ کرے گا کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میرے ساتھ ہو جہاں تو ہو دے۔خدا کے ساتھ ہو جہاں الله حيث ماكنت ۔ كنتم خير امة أُخرِجَتْ لِلنَّاسِ ۔ إِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا تو ہووے۔ تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے نفع کیلئے نکالے گئے۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ خدا تیرے ذکر کو بلند يرفع الله ذكرك۔ ويتم نـعـمـتـه عَلَيْكَ فِي الدّنيا وَالْآخِرَةِ۔ يَا أَحمد يتم کرے گا اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔ اے احمد تیرا نام پورا ہو جائے گا قبل اس کے جو میرا اسمُك ولا يتم اسمِيُّ۔ إنّى رافِعُكِ إِلى القيتُ عَلَيْكَ محبَّة مِنّى نام پورا ہو میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ میں نے اپنی محبت کو تجھ پر ڈال دیا۔ شَانُكَ عَجِيبٌ وَاجُرُكَ قَريبٌ ۔ الأرض والسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُو ۔ معنى ے تیری شان عجیب ہے۔ تیرا اجر قریب ہے۔ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ۔ أَنتَ وَجيَّةٌ فِي حَضْرَتي۔ اخترتُكَ لنفسِى أَنتَ وَجية في الدنيا تو میری جناب میں وجیہ ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا۔ تو دنیا اور میری جناب میں وجیہ ہے حمید حاشیہ ھو کا ضمیر واحد باعتبار واحد فی الذہن یعنی مخلوق ہے اور ایسا محاورہ قرآن شریف میں بہت ہے ۔ منہ