انجام آتھم — Page 43
روحانی خزائن جلداا ۴۳ خدا کا فیصلہ آتھم کے مقدمہ میں دیکھ چکے ہو کہ باوجود اس کے بہت سے منصوبوں کے پھر آخر حق ظاہر ۴۳) ہو گیا۔ کیا تمہارے دل قبول نہیں کر گئے کہ آتھم کا قسم سے انکار کرنا اور نالش سے انکار کرنا اور حملوں کا ثبوت دینے سے انکار کرنا صرف اسی وجہ سے تھا کہ اس نے ضرور الہامی شرط کے موافق حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ تمہیں معلوم ہے کہ باوجود اس کے کہ علامتی اشتہاروں کی بہت ہی اس کو مار پڑی مگر وہ اس الزام سے اپنے تئیں بری نہ کر سکا جو اس کے اقرار خوف اور بے ثبوت ہونے عذر حملوں سے اس پر وارد ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ اس موت نے اس کو آ پکڑا جس سے وہ ڈرتا رہا اور ضرور تھا کہ وہ انکار کے بعد جلد مرتا۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کی پاک پیش گوئیوں کے رو سے یہی سزا اس کے لئے ٹھہر چکی تھی۔ سو اس خدا سے خوف کرو جس نے آتھم کو بڑی سرگردانیوں کے گرداب میں ڈال کر آخر اپنے وعید کے موافق ہلاک کر دیا۔ خدا کی کھلی کھلی پیشگوئیوں سے منہ پھیرنا یہ بدطینتوں کا کام ہے نہ نیک لوگوں کا ۔ اور جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔ میاں حسام الدین عیسائی لکھتے ہیں کہ آتھم چار دن تک بے ہوش رہا۔ مگر وہ اس کا سر نہیں بیان کر سکے کہ کیوں چار دن تک بے ہوش رہا۔ سو جاننا چاہیے کہ یہ چار دن کی سخت جان کندن کے ان چار افتر اؤں کی اسی دنیا میں اس کو سزا دی گئی۔ جو اس نے زہر خورانی کے اقدام کا افترا کیا۔ سانپ چھوڑنے کا افترا کیا۔ اودیانہ اور فیروز پور کے حملہ کا افترا کیا اور عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے اصل وجہ خوف کو چھپایا۔ سو عیسائیوں کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی شرم کی جگہ نہیں کہ آتھم ان کے مذہب کے جھوٹا ہونے پر گواہی دے گیا۔ اب اگر آتھم کی گواہی پر اعتبار نہیں تو اس نئے طریق سے دوبارہ حجت اللہ کو پورا کر الینا چاہیے اور اس نئے طریق میں کوئی شرط بھی نہیں ۔ سیدھی بات ہے کہ اگر باہم دعا کرنے کے بعد جس کے ساتھ فریقین کی طرف سے آمین بھی ہوگی۔ میرے مقابل کا شخص ایک سال تک خدا تعالی کے فوق العادت عذاب سے بیچ گیا تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں تاوان مذکورہ بالا ادا کروں گا۔ اور میں حضرات پادری صاحبان کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اس طرح کا طریق دعا ان کے