انجام آتھم — Page 42
روحانی خزائن جلدا ۴۲ خدا کا فیصلہ (۲۲) پیچھے پیچھے چلے اور شیطان اس سے سجدہ چاہے اور اس کو دنیا کی طمع دے ۔ کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ وہ شخص جس کی ہڈیوں میں خدا گھسا ہوا تھا ساری رات رو رو کر دعا کرتا رہا اور پھر بھی استجابت دعا سے محروم اور بے نصیب ہی رہا۔ کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ خدائی کے ثبوت کے لئے یہود کی کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہود اس عقیدہ پر ہزار لعنت بھیجتے ہیں اور سخت انکاری ہیں اور کوئی ان میں ایسا فرقہ نہیں جو تثلیث کا قائل ہو اگر یہود کو موسیٰ سے آخری نبیوں تک یہی تعلیم دی جاتی تو کیونکر ممکن تھا کہ وہ لاکھوں آدمی جو بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اس تعلیم کو سب کے سب بھول جاتے ۔ کیا یہ بات سوچنے کے لائق نہیں کہ عیسائیوں میں قدیم سے ایک فرقہ موحد بھی ہے جو قرآن شریف کے وقت میں بھی موجود تھا۔ اور وہ فرقہ بڑے زور سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ تثلیث کا گندہ مسئلہ صرف تیسری صدی کے بعد نکلا ہے اور اب بھی اس فرقہ کے لاکھوں انسان یورپ اور امریکہ میں موجود ہیں اور ہزارہا کتابیں ان کی شائع ہو رہی ہیں ۔ پس جبکہ اس قدر ملزم ہو کر پھر بھی پادری صاحبان اپنی بد زبانیوں سے باز نہیں آتے تو کیا اس وقت خدا کے فیصلہ کی حاجت نہیں ؟ ضرور حاجت ہے ۔ تا جو جھوٹا ہے ہلاک ہو جائے جو گروہ جھوٹا ہو گا اب بلا شبہ بھاگ جائے گا اور جھوٹے بہانوں سے کام لے گا۔ سواے پادری صاحبان دیکھو کہ میں اس کام کیلئے کھڑا ہوں اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فیصلہ سے بچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہو جائے تو آؤ۔ تاہم ایک میدان میں دعاؤں کے ساتھ جنگ کریں تا جھوٹے کی پردہ دری ہو ۔ یقینا سمجھو کہ خدا ہے اور بے شک وہ قادر موجود ہے اور وہ ہمیشہ صادقوں کی حمایت کرتا ہے۔ سو ہم دونوں میں سے جو صادق ہو گا خدا ضرور اس کی حمایت کرے گا۔ یہ بات یا درکھو کہ جو شخص خدا کی نظر میں ذلیل ہے وہ اس جنگ کے بعد ذلت دیکھے گا اور جو اس کی نظر میں عزیز ہے وہ عزت پائے گا