انجام آتھم — Page 37
۳۷ خدا کا فیصلہ روحانی خزائن جلداا اور چونکہ ان کے عقیدہ کے موافق یسوع خدا ہے اور یہ ساری بے رحمی کی کارروائیاں اس کے حکم سے ۳۷ کے ہوئی ہیں اور وہ مجسم خدا ہے جیسا کہ بیان ہو چکا تو اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ سب سے پہلے اس کی تصویر کھینچ کر اس کے ہاتھ میں کم سے کم تین تلواریں دی جاتیں۔ پہلی وہ تلوار جو اس نے موسیٰ کو دی اور بے گناہ شیر خوار بچوں کو قتل کروایا۔ دوسری وہ تلوار جو یشوع بن نون کو دی ۔ تیسری وہ تلوار جو داؤد کو دی۔ افسوس ! کہ اس حق پوش قوم نے بڑے بڑے ظلموں پر کمر باندھ رکھی ہے۔ اگر تلوار کے ذریعہ سے خدا کا عذاب نازل ہونا خدا کی صفات کے مخالف ہے تو کیوں نہ یہ اعتراض اول موسیٰ سے ہی شروع کیا جائے جس نے قوموں کو قتل کر کے خون کی نہریں بہادیں اور کسی کی تو بہ کو بھی قبول نہ کیا۔ قرآنی جنگوں نے تو تو بہ کا دروازہ بھی کھلا رکھا جو عین قانون قدرت اور خدا کے رحم کے موافق ہے کیونکہ اب بھی جب خدا تعالیٰ طاعون اور ہیضہ وغیرہ سے اپنا عذاب دنیا پر نازل کرتا ہے تو ساتھ ہی طبیبوں کو ایسی ایسی بوٹیاں اور تدبیروں کا بھی علم دے دیتا ہے جس سے اس آتش و با کا انسداد ہو سکے سو یہ موسیٰ کے طریق جنگ پر اعتراض ہے کہ اس میں قانون قدرت کے موافق کوئی طریق بچاؤ قائم نہیں کیا گیا۔ ہاں بعض بعض جگہ قائم بھی کیا گیا ہے مگر کلی طور پر نہیں الغرض جبکہ یہ سنت اللہ یعنی تلوار سے ظالم منکروں کو ہلاک کرنا قدیم سے چلی آتی ہے تو قرآن شریف پر کیوں خصوصیت کے ساتھ اعتراض کیا جاتا ہے۔ کیا موسیٰ کے زمانہ میں خدا کوئی اور تھا اور اسلام میں کوئی اور ہو گیا یا خدا کو اس وقت لڑائیاں پیاری لگتی تھیں اور اب بُری دکھائی دیتی ہیں۔ اور یہ بھی فرق یادر ہے کہ اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اٹھا نا حکم فرمایا ہے کہ جو اول آپ تلوار اٹھا ئیں اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں ۔ یہ حکم ہر گز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت میں ہو کر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اٹھا کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کرو ۔ قرآن کے رو سے یہ بد معاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا ۔ لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ کھول کر بیان نہیں فرما یا اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں مگر اندھے دشمن