انجام آتھم — Page 36
روحانی خزائن جلداا ۳۶ خدا کا فیصلہ یہ تینوں مجسم خدا عیسائیوں کے زعم میں ہمیشہ کے لئے مجسم اور ہمیشہ کے لئے علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں اور پھر بھی یہ تینوں مل کر ایک خدا ہے لیکن اگر کوئی بتلا سکتا ہے تو ہمیں بتلاوے کہ باوجود اس دائمی بجسم اور تغیر کے یہ تینوں ایک کیونکر ہیں۔ بھلا ہمیں کوئی ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عماد الدین اور پادری تھا کرو اس کو باوجود ان کے علیحدہ علیحدہ جسم کے ایک کر کے تو دکھلا دے۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ اگر تینوں کو کوٹ کر بھی بعض کا گوشت بعض کے ساتھ ملا دیا جاوے پھر بھی جن کو خدا نے مین بنایا تھا ہرگز ایک نہیں ہوسکیں گے ۔ پھر جبکہ اس فانی جسم کے حیوان با وجود امکان تحلیل اور تفرق جسم کے ایک نہیں ہو سکتے پھر ایسے تین مجتم جن میں بموجب عقیدہ عیسائیاں تحلیل اور تفریق جائز نہیں کیونکر ایک ہو سکتے ہیں ۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ عیسائیوں کے یہ تین خدا بطور تین ممبر کمیٹی کے ہیں اور بزعم ان کے تینوں کی اتفاق رائے سے ہر ایک حکم نافذ ہوتا ہے یا کثرت رائے پر فیصلہ ہو جاتا ہے گویا خدا کا کارخانہ بھی جمہوری سلطنت ہے اور گویا ان کے گاڈ صاحب کو بھی شخصی سلطنت کی لیاقت نہیں ۔ تمام مدار کونسل پر ہے۔ غرض عیسائیوں کا یہ مرکب خدا ہے جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے۔ پادری صاحبان ایسے خدا والے مذہب پر تو ناز کرتے ہیں لیکن اسلام جیسے مذہب کی جو ایسی خلاف عقل باتوں سے پاک ہے تو ہین اور تحقیر کر رہے ہیں اور دن رات یہی شغل ہے کہ اپنے دجالی فریبوں سے خدا کے پاک اور صادق نبی کو کا ذب ٹھہرا دیں اور بُری بُری تصویروں میں اس نورانی شکل کو دکھلا دیں ۔ بعض پلید فطرت پادریوں نے اپنی تالیفات میں اس طرح ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچ کر دکھلائی ہے کہ گویا وہ ایک ایسا شخص ہے جس کی خونی صورت ہے اور غصہ سے بھرا ہوا کھڑا ہے اور ایک نگی تلوار ہاتھ میں ہے اور بعض غریب عیسائیوں وغیرہ کو ٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتا ہے لیکن اگر ان لوگوں کو کچھ انصاف اور ایمان میں سے حصہ ہوتا تو اس تصویر سے پہلے موسیٰ کی تصویر کھینچ کر دکھلاتے اور اس طرح کھینچتے کہ گویا ایک نہایت سخت دل اور بے رحم انسان ہاتھ میں تلوار لے کر شیر خوار بچوں کو ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور ایسا ہی یشوع بن نون کی تصویر پیش کرتے اور اس تصویر میں یہ دکھلاتے کہ گویا اس نے لاکھوں بے گناہ بچوں کو ان کی ماؤں کے سمیت ٹکڑے ٹکڑے کر کے میدان میں پھینک دیا ہے۔