انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 448

انجام آتھم — Page 27

روحانی خزائن جلدا ۲۷ انجام آتھم اُس پر وارد ہو گا اُس کے جلد مرنے کا موجب ہوگئی اور جیسا کہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں وہ ہمارے ﴿۲۷﴾ اشتہار ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء کے بعد جو ہمارا آخری اشتہار بطور اتمام حجت تھا پورے سات مہینے بھی زندہ نہ رہ سکا۔ پس کیا یہ خدا کا فعل نہیں ہے کہ اس نے آتھم کے اصرار انکار پر موت کی سزا سے اس کا تمام جھوٹ اور افترا یک لخت ظاہر کر دیا۔ اب بیان کردو کہ کونسا قانونی سقم ہماری اس تقریر میں ہے۔ اور آتھم کو ملزم قرار دینے کے لئے کس ثبوت کی کسر رہ گئی ہے۔ بلاشبہ اُسی کی عملی حالت نے اس پر فرد قرار داد جرم لگا دی جس پر وہ ایک بھی صفائی کا گواہ پیش نہ کر سکا۔ اب عیسائیوں کو اس کی ناحق کی حمایت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ ہم نے بہت صفائی سے بار بار اس بات پر زور دیا کہ آتھم اس بیان میں بالکل جھوٹا ہے کہ اس کے قتل کے ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِینَ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں ۔ صاحب انصاف طلب کو یا درکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعوی نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھو کہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا ۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرسَلُ یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے کیا وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے ۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الا شہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں ۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اورنہ کوئی نیا۔ ومن قال بعد رسولنا وسيدنا انّى نبى او رَسُول على وجه الحقيقة والافتراء وترك القرآن | واحكام الشريعة الغراء فهو كافر كذاب - غرض ہمارا مذ ہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعوی کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالبا ایسا شخص اپنا کوئی نیا نوٹ ۔ ایسے لفظ نہ اب سے بلکہ سولہ برس سے میرے الہامات میں درج ہیں چنانچہ براہین احمدیہ میں ایسے کئی مخاطبات الہیہ میری نسبت پاؤ گے ۔ منہ الاحزاب: ام ۲۷