انجام آتھم — Page 26
روحانی خزائن جلدا ۲۶ انجام آنقم (۲۶) اجتناب کیا جس سے اس کے دعوی کے تمام نقص اور عیوب پبلک کی نگاہ میں کالعدم ہو سکتے تھے ۔ اور پورے طور پر اس کی صفائی ہو سکتی تھی۔ اس کا فرض تھا کہ وہ جس طرح ہو سکتا ان الزاموں سے اپنے تئیں بری کر کے دکھلاتا کہ جو اس پر وارد ہو چکے تھے۔ نالش سے یا خانگی تحقیقات پیش کرنے سے یا قسم سے یا کسی اور طریق سے۔ لیکن وہ اپنے تئیں اس داغ الزام سے بری نہ کر سکا یہاں تک کہ قبر میں داخل ہو گیا سو اس کے کذب پر ایک تو یہی ثبوت تھا کہ اس نے اپنی بر بیت ظاہر کرنے سے باوجود بہت وسیع موقعہ ملنے کے عمداً پہلوتہی کیا لیکن علاوہ اس کے ایک دوسری جز و ثبوت کی اس کے کذب پر یہ پیدا ہوئی جو وہ اس دوسری پیشگوئی کے اثر سے جس کا ہم صدر اشتہار میں ذکر کر چکے ہیں اپنی زندگی کو بچا نہ سکا اور یہی بیبا کی اور قسم کھانے سے انکار جس کے نتیجہ بد کی نسبت بار بار پیشگوئی کی گئی تھی اور بیان کیا گیا تھا کہ اس کے اصرار کے زمانہ کے بعد عذاب موت شخص انصاف طلب یا انصاف کا خواہاں ہو۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اکثر لوگ حق پسند اور انصاف طلب کہلا کر پھر جلدی سے انصاف کا خون کر دیتے ہیں اور قبل اس کے جو کسی بات کی تہ تک پہنچیں اور کسی اصل حقیقت کو دریافت کریں رائے ظاہر کرنے کے لئے طیار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایسی رائے جو صرف سرسری اور سطحی خیال سے پیدا ہوئی ہے کیونکر غلطی سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ ناچار وہ اپنی شتاب کاریوں کی وجہ سے قابل شرم غلطیوں میں پڑتے ہیں اور پھر اپنی غلطی کی بیچ میں ایسا تعصب پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا ممکن ہے کہ اس سے رجوع کر سکیں۔ اگر چہ سچائی روز روشن کی طرح کھل جائے۔ بہر حال صاحب انصاف طلب کی خدمت میں ان کے بعض کلمات کا جواب دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔ قوله ” میرزا صاحب کے موافقین اور مخالفین نے پر لہ درجہ کی افراط اور تفریط کی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہو کہ میں قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں ۔ اور لوگوں کو اسلام سکھاتا ہوں ۔ اس کو کافر کہنا زیبا نہیں ۔ مگر ایک عالم کے رتبہ سے بڑھا کر پیغمبری تک پہنچانا بھی نہیں ۔" اقول - صاحب انصاف طلب کے بیان میں یعنی ان کے پہلے ہی قول شریف میں تناقض پایا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ بہت ہی حق پسند بن کر نہایت مہربانی سے فرماتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کہنا زیب نہیں اور پھر دوسری طرف اُسی منہ سے میری نسبت رائے ظاہر کرتے ہیں کہ گویا میری جماعت در حقیقت مجھے رسول اللہ جانتی ہے اور گویا میں نے در حقیقت نبوت کا دعوی کیا ہے۔ اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا کہ میں مسلمان