انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 448

انجام آتھم — Page 22

روحانی خزائن جلدا ۲۲ انجام آتھم (۲) اسی طرح آتھم کو بھی اس راز کے افشا میں اپنی جان کا اندیشہ تھا کیا کوئی سچا اس پر راضی ہو سکتا ہے کہ اس کے ایسے دعا دی جو اس کی سچائی کا مدار ہیں اندھیرے میں چھوڑے جائیں اور کوئی بھی سچائی کی چمک ان میں نظر نہ آوے۔ سچا مدعی اپنے کسی پہلو کو قابل اعتراض چھوڑ نا نہیں چاہتا اور پوری صفائی کے لئے تیار ہوتا ہے مگر حسام الدین صاحب مجھے بتلاویں کہ کس بات میں آتھم نے پوری صفائی دکھلائی ۔ کیا اس نے حملوں کے وقت کسی تھانہ یا عدالت میں رپورٹ کی۔ اور اگر یہ نہیں تو کیا زبانی ہی کسی حاکم سے یہ ذکر کیا۔ یا کسی دوست کو اس راز سے اطلاع دی۔ کیا اس نے سزا دلانے کے لئے کسی نالش یا مچلکہ کے لئے کوئی کوشش کی یا خانگی طور پر کوئی ثبوت دیا۔ یا اس نے قسم سے اس الزام کو اپنے پر سے دیکھو آج جیسا کہ خدا نے پیش از وقت وہ الہام کیا تھا جو انوار الاسلام صفحہ ۲ میں درج ہے۔ کیا صفائی سے پورا ہوا۔ اور وہ یہ ہے۔ اِطَّلَعَ اللهُ عَلى هَمِّهِ وَغَمِّهِ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَا تَعْجَبُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الاعْلَوْنَ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ وَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ كُلَّ مُمَزَّقٍ۔ وَمَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُوُرٍ۔ إِنَّا نَكْشِفُ السِّرَّعَنُ سَاقِهِ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ۔ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ۔ وَهَذِهِ تَذْكِرَةً فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلا ۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۲ اور پھر اسی انوار الاسلام صفحہ ۲ میں اس الہام کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ( یعنی آتھم کے ) ہم و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی۔ جب تک کہ وہ بے باکی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دے۔ یہ معنی فقرہ مذکور کے تفہیم الہی سے ہیں اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ اور تو ربانی سنتوں میں تغیر اور تبدل نہیں پائے گا۔ اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ایسے کامل اسباب پیدا نہ ہو جائیں جو غضب الہی کو مشتعل کریں۔ اور اگر دل کے کسی گوشہ میں کچھ خوف الہی مخفی ہو اور کچھ دھڑ کہ شروع ہو جائے تو عذاب نازل نہیں ہوتا۔ اور دوسرے وقت پر جاپڑتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ کچھ تجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو۔ یہ اس عاجز کی جماعت کو خطاب ہے۔ اور پھر فرمایا کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے۔ سید اس عاجز کو خطاب ہے۔ اور