انجام آتھم — Page 21
روحانی خزائن جلدا ۲۱ انجام آتھم رحیمانہ عادت مجرموں کا واجب تدارک کرانے سے روکتی رہی بلکہ جس حالت میں پہلے حملہ کی وجہ ۲۱ سے آئندہ زندگی کا امن اٹھ گیا تھا تو کیا عقل باور کر سکتی ہے کہ پھر بھی آتھم نے درگذر اور عفو کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کسی نے اس کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اب دشمن کا تدارک بہت ضروری ہے اور اس میں دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی جان کا بچاؤ اور دوسرے دشمن کے مذہب کی ذلت جو عیسائیوں کا عین مطلب ہے۔ یہ بھی یا در رکھنے کے لائق ہے کہ آتھم کا بیان صرف اس اعتبار تک محدود تھا کہ جو ایک مدعا علیہ کے ایسے بیان پر کر سکتے ہیں جس کا اس کے پاس کچھ بھی ثبوت نہ ہو ۔ اگر اس نے ان حملوں کا واقعی طور پر معائنہ کیا تھا تو وہ بڑا ہی بد قسمت تھا کہ باوجود یکہ اس کی کوٹھی بہت سے آدمیوں سے بھری ہوئی تھی۔ تب بھی وہ کسی اپنے آدمی کو کوئی سوار یا پیادہ یا گھوڑا یا ہتھیار دکھلا نہ سکا اور نہ بیان کر سکا یہاں تک کہ پیشگوئی کی میعاد گزرگئی گویا جس طرح فری میسن کے لوگ اپنا راز ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ پھر ہمیں کون سی ضرورت پیش آئی تھی کہ انگریزوں کی عدالتوں کے دروازہ پر اپنے تئیں سرگردان کرتے ۔ ہم تو اس وقت سے ہی آتھم کو مرا ہوا دیکھتے تھے جبکہ جاہل عیسائی اور نادان بطالوی اور اس کے ہم خیال آختم مذکور کوزندہ سمجھتے تھے۔ لیکن یہ فرض آتھم کا تھا کہ جن بے ثبوت حملوں کے الزاموں سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ وہ ضرور اس پیشگوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا جو نہایت ہولناک لفظوں میں بیان کی گئی تھی اور ضرور اس نے پیچھے سے اپنے خوف کی اصل حقیقت چھپانے کے لئے اقدام قتل کا بے ثبوت افترا بنا لیا۔ عدالت میں نالش کر کے ان حملوں کا ثبوت دیتا اور مجرموں کو واقعی سزا دلاتا کیونکہ اس کے بے ثبوت دعووں کا بار ثبوت تو اسی کے ذمہ تھا۔ لیکن وہ ظالم مفتری تو قسم بھی نہ کھا سکا چہ جائیکہ نالش کرتا۔ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ کسی طرح نالش سے یا قسم سے یا خانگی طور پر ثبوت دینے سے اپنی صفائی ظاہر کر دیتا۔ کیا وہ چار حملے یعنی ارادہ زہر خورانی اور سانپ چھوڑنا اور اودیانہ اور فیروز پور میں جو بقول آتھم قتل کے لئے حملے ہوئے ان تمام حملوں کا ثبوت میرے ذمہ تھایا آتھم کی گردن پر تھا۔ اے بدذات فرقہ مولویان ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔