انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 448

انجام آتھم — Page 19

روحانی خزائن جلداا ۱۹ انجام آنقم اگر چہ حال کے فلاسفروں کی نظر میں یہ پہلا احتمال بہت قدر کے لائق نہیں ہے یعنی یہ کہ آتھم کو فرشتے 190 نظر آئے ہوں مگر چونکہ خود اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تھے کہ ” میں خونی فرشتوں سے ڈرتا رہا اس لئے ہمیں مناسب ہے کہ اس کے ان الفاظ کو بھی اس سچائی پر قیاس کریں کہ جو بعض اوقات بے اختیار مجرم کی زبان پر جاری ہو جاتی ہے۔ ایک محقق کی نظر میں یہ امر بہت مشکل ہے کہ اگر یہ تمام حملے انسان ہی کے حملے تھے تو ان مختلف حملوں میں کوئی دوسرا شخص کسی موقعہ پر بھی آتھم کا شریک رؤیت نہ ہو سکا اور آتھم کی زبان پر بھی مہر لگی رہی اور اس نے اس میعاد میں کوئی کارروائی ایسی نہ دکھلائی جیسا کہ ایک شخص خونیوں کے حملوں سے ڈرنے والا طبعی جوش سے دکھلاتا ہے بلکہ اس نے تو اپنا دامن قسم کھانے سے بھی پاک نہ کیا جس کے کھانے میں نہ صرف آسانی بلکہ نقد چار ہزار روپیہ ملتا تھا۔ پس ان واقعات سے یہ نتیجہ نکالنا عین انصاف ہے کہ کوئی ڈرانے والا امر اس کو اس جرات کرنے سے روکتا تھا کہ وہ نالش کرتا یا قسم کھاتا یا خانگی تحقیقات کرواتا۔ اگر ایک پاک نظر لے کر اس مقدمہ پر سلسلہ وار غور کرو تو تمہیں بہت جلد سمجھ آ جائے گا کہ اول سے آخر تک تمام سلسلہ اس نتیجہ کو چاہتا ہے کہ آتھم کا وہ خوف جس کا اس کو اقرار ہے صرف پیشگوئی کی عظمت کی وجہ سے تھانہ کسی اور وجہ سے۔ اور آتھم کے دروغ گو ہونے پر وہ اختلاف اور تناقض بھی شاہد ہے جو اس کے دعوی عیسائیت اور اس قدر بزدلی سے مترشح ہو رہا ہے کیونکہ اس نے عیسائیت کا اقرار کر کے اسلام کے مقابل وہ خوف دکھلایا کہ جب تک انسان کم سے کم تذبذب کی حالت میں نہ ہو ہر گز دکھلا نہیں سکتا اور نیز اس کی کلام میں یہ فوجداری میں نائش کر کے ان بہتانوں کو ثابت کراتے اور یا بطور چند گواہوں کے پیش کرنے سے ان کا ثبوت دیتے اور یا جلسہ عام میں قسم کھا لیتے۔ مگر آتھم صاحب نے ان طریقوں میں سے کسی طریق کو اختیار نہیں کیا۔ پھر آتھم صاحب کے جھوٹا ہونے کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ ان الزاموں کو انہوں نے نہ ایام میعاد پیشگوئی میں بیان کیا اور نہ ان ایام کے گزرنے کے بعد ان چاروں حملوں کو یکدفعہ بیان کردیا بلکہ جیسا کہ جھوٹ رفتہ رفتہ فکر اور سوچ کے ساتھ بنایا جاتا ہے ایسا ہی کیا۔ اب اے عزیز و آپ ہی سوچو کہ کیا وہ اس خوف کا اقرار کر کے جو الہامی شرط کا مؤید تھا اس خوف کے کوئی اور اسباب ثابت کرسکا اور کیا وہ اس بات کا کچھ ثبوت دے سکا کہ در حقیقت اس پر چار حملے ہوئے اور انہیں حملوں کی وجہ سے اس کا یہ سارا خوف تھا۔ منہ