انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 448

انجام آتھم — Page 18

روحانی خزائن جلداا ۱۸ انجام آنقم (۱۸) یہ لوگ بے خبر ہیں دیکھو انوار الاسلام اور اشتہار ہزار روپی۔ دو ہزار روپیہ۔ تین ہزار روپیہ۔ چار ہزار رو پید اور رسالہ ضیاء الحق اور آخری اشتہار ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء جس کے سات ماہ بعد آتھم اپنی بیبا کی کی جزا کو پہنچ گیا۔ میرا یہ خیال بھی ہے کہ آتھم زہر خورانی کے دعوئی میں تو بالکل جھوٹا ہے لیکن باقی تین حملوں کے دعوی میں شائد ایک اصلیت بھی ہو اور وہ یہ ہے کہ شاید یونس کی قوم کی طرح ایسے پیرایوں میں فرشتے اس کو نظر آئے ہوں جن کا وہ خود خونی فرشتے نام رکھتا ہے اور پھر اس نے عمداً یا کسی قدر سہو کی آمیزش سے ان حملوں کو انسانی حملے خیال کر لیا ہو اور اصل واقعہ کو گڑ بڑ کردیا ہو یہ اس حالت میں ہے کہ کسی قدر اس کو بھلا مانس آدمی خیال کر لیا جائے ۔ لیکن یقیناً عیسائی لوگ اس تاویل پر راضی نہیں ہوں گے۔ پس دوسرا احتمال صرف یہ ہے کہ اس نے عمداً ایک گندے اور نا پاک جھوٹ اور افترا سے کام لیا تا اس خوف کو چھپاوے جو اس کے مضطربانہ افعال سے ظاہر ہو چکا تھا۔ غرض اگر اس کے بیان پر اعتبار کیا جائے تو ان حملوں کو فرشتوں کے تمثلات مان لینا چاہیے ورنہ اس میں کچھ شک نہیں کہ سخت نالائق اور مکر وہ جھوٹ کو اس نے حق پوشی کے لئے استعمال کیا ہے۔ ان کی سراسیمگی اور بیقراری سے ظاہر ہو چکا تھا وہ چاہتا تھا کہ اگر اس کا سبب الہامی پیشگوئی نہیں تو ایسا سبب ضرور ہونا چاہیے جو نہایت ہی قومی اور عظیم الشان ہو جس سے یقینی طور پر موت کا اندیشہ دل میں جم سکے۔ سوجھوٹ کی بندشوں سے کام لے کر یہ خوف کے اسباب تراشے گئے مگر ان بہتانوں نے جو نہایت مکر وہ طور پر غیر محل پر استعمال کئے گئے آتھم صاحب کی اندرونی حالت بلکہ عیسائیت کے لب لباب کو اور بھی پبلک کے سامنے رکھ دیا ۔ اور اس نظیر نے ثابت کر دیا کہ ان کی فطرت میں کس قدر قابل شرم خُبث بھرا ہوا ہے جو ایسے ظلم اور جھوٹ اور بناوٹ اور سراسر بے اصل بہتان باندھنے کا محرک ہوا۔ مگر یہ چاروں بہتان آتھم صاحب کو ملزم کرتے تھے ۔ افسوس کہ آتھم صاحب کے ان بہتانوں سے عقلمندوں کے نزدیک اگر کچھ نتیجہ پیدا ہوا تو صرف یہی کہ یہ عیسائی لوگ جھوٹ بولنے میں سخت بیباک اور بے شرم ہیں ۔ کون نہیں سمجھ سکتا کہ ان جھوٹے اور بے ثبوت بہتانوں سے ان کا منہ کالا ہو گیا تھا اور اس کلنگ کو دور کرنے کے لئے بجز اس کے اور کوئی تدبیر نہ تھی کہ یا تو عدالت