انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 448

انجام آتھم — Page 14

روحانی خزائن جلدا ۱۴ انجام آنقم (۱۴) سو بلا شبہ پیشگوئی نے میعاد کے اندر اس ہاویہ کا مزہ ان کو چکھا دیا جس بادیہ کی تعمیل رفتہ رفتہ ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو ہو گئی اور ضرور تھا کہ وہ پیشگوئی کی میعاد میں ہادیہ کے پورے اثر سے بچے رہتے کیونکہ انہوں نے اسلامی پیشگوئی کا ڈراپنے پر ایسا غالب کیا کہ ایک قسم کی موت ان پر آگئی وہ مردوں کی طرح چپ ہو گئے اور عیسائیت کے پلید عقائد کی حمایت میں جو پہلے تالیفات کرتے رہتے تھے ان سے یکلخت دستکش ہو گئے اور خوف کے صدمات نے ان کو سراسیمہ کر دیا پس کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے الہام کی شرط کے موافق موت کو دوسرے وقت پر ٹال دیتا۔ اور کیا ان کی موت سے پہلے یہ پیشگوئی شائع نہیں کی گئی کہ انکار قسم کے اصرار پر یہ پیشگوئی پورے طور پر پوری ہو جائے گی۔ سو اب بے شک آتھم صاحب پیشگوئی کے مطابق مرے اور آخری انکار کے بعد صرف سات مہینے زندہ رہے۔ سو یہ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں کہ ہر ایک شریف عیسائی کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہوگا کہ آتھم باطل اندیش نے پیشگوئی کی سچائی کو چھپانے کے لئے کیا کیا مکروہ اور نالائق افتراؤں سے کام لیا اور کس طرح دلیری کے ساتھ بے بنیاد جھوٹ کو پیش کیا۔ نالائق آتھم نے سراسر بے وجہ مجھے زہر خورانی کے اقدام کی تہمت دی۔ میرے پر یہ افترا باندھا کہ گویا میں نے اس کے قتل کرنے کے لئے اس کی کوٹھی میں سانپ چھوڑے تھے۔ اور گویا میں ایسا پرانا خونی تھا کہ تین مرتبہ میں نے تین مختلف شہروں میں اس کے مارنے کے لئے اپنی جماعت کے جوانوں سے حملے کرائے اور کئی سوار اور پیادے معہ بندوقوں اور تلواروں اور نیزوں کے اس کی کوٹھی میں لود یا نہ اور فیروز پور میں میرے حکم سے گھس گئے ۔ خدا کی لعنت کا مارا بہت سا جھوٹ بول کر بھی آخر موت سے بچ نہ سکا۔ شرطی پیشگوئی سے تو اس کی جان بوجہ ادائے شرط کے بچ گئی لیکن قطعی پیشگوئی نے آخر اس کو کھا لیا۔ میں اپنے اشتہارات انوار الاسلام وغیرہ اور ضیاء الحق میں نہایت دلائل قاطعہ سے ثابت کر چکا ہوں کہ آتھم کا یہ نہایت گندہ جھوٹ ہے کہ اس نے ان حملوں کا میرے پر الزام لگایا اور ایک راستباز انسان کی طرح کبھی یہ ارادہ نہ کیا کہ اس الزام کو ثابت کرے نہ نالش سے نہ بذریعہ پولس ثبوت