انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 448

انجام آتھم — Page 13

روحانی خزائن جلدا ۱۳ انجام آتھم دام انداز کی کہ انہوں نے یہودیوں کو داؤد کے تخت کی امید دلائی تا وہ لوگ اگر اور طرح ۱۳ نہیں تو اسی طرح ان کے قبضہ میں آجائیں ۔ مگر چاہئے تھا کہ وہ ایسی لاف و گزاف سے اپنی زبان کو بچاتے اور اسی پہلی بات پر قائم رہتے کہ میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت نہیں مگر نفسانی جذبات کی وجہ سے صبر نہ کر سکے اور اپنے پہلے پہلو میں نا کامی دیکھ کر ایک اور چال اختیار کی اور پھر جب باغی ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے تو پھر اپنے تئیں بغاوت کے الزام سے بچانے کے لئے وہی پہلا پہلو اختیار کر لیا ۔ دعوی خدائی کا اور پھر یہ چال بازیاں ۔ جائے تعجب ہے۔ اور یادر ہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔ قوله ۔ ہر ایک شریف مسلمان کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہو گا کہ مسلمان مخالفین نے ان کے یعنی آتھم صاحب کے مارنے کے لئے وحشیانہ حرکتیں کیں ان کے گھر میں زندہ سانپ چھوڑے گئے ان کو زہر کھلانے کی تجویز کی گئی۔ اقول ۔ میں پوچھتا ہوں کہ اب آتھم صاحب جو مر گئے کس زہر سے مارے گئے یا کس سانپ نے ان کو ڈسا یا کس نے ان پر بندوق غیر کی یا تلوار چلائی۔ اگر کہو کہ اب پیشگوئی کی میعاد کے بعد فوت ہوئے تو یہ صاف حماقت ہے کیونکہ پیشگوئی نے یہ قطعی فیصلہ نہیں دیا تھا کہ ضرور است کی میعاد کے اندر ہی فوت ہوں گے۔ بلکہ پیشگوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر وہ عیسائیت پ مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہوگا تو صرف اس حالت میں پیشگوئی کے اندر فوت ہوں گے ور نہ ان کی موت میں تا خیر ڈال دی جائے گی۔ ہاں کسی قدر ہادیہ کا بھی مزہ چکھ لیں گے