انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 448

انجام آتھم — Page 6

روحانی خزائن جلدا ۶ انجام آنقم تھی ۔ اور اگر کسی پیشگوئی میں یہود کو خبر دی جاتی کہ ایک خدا بھی عورت کے پیٹ سے پیدا ہونے والا ہے تو پیشگوئی کے ایسے مفہوم سے جو نبیوں کی معرفت سبق کے طور پر ان کو ملا تھا ہرگز انکار نہ کرتے ۔ ہاں یہ ممکن تھا کہ یہ عذر پیش کرتے کہ ایک خدا ایک عورت کے پیٹ میں سے نکلنے والا تو ضرور ہے مگر وہ خدا ابن مریم نہیں ہے بلکہ وہ کسی دوسرے وقت میں آئے گا حالانکہ ایسے عقیدہ پر یہود ہزار لعنت بھیجتے ہیں۔ پس میں پوچھتا ہوں کہ جنگ مقدس میں آتھم نے ان باتوں کا کیا جواب دیا ہے۔ کیا یہود کی گواہی سے ثابت کیا کہ نبیوں سے یہی تعلیم ان کو ملی تھی یا نبیوں کی معرفت جو پیشگوئیوں کے معنے ان کو سمجھائے گئے تھے وہ یہی معنی ہیں۔ سچ ہے کہ آتھم اور اس کے ہم مشربوں نے بائیبل میں سے چند پیش گوئیاں پیش کی تھیں ۔ مگر وہ ہرگز ثابت نہ کر سکے کہ یہود جو وارث توریت کے ہیں وہ یہی معنے کرتے ہیں۔ صرف تاویلات رکیکہ پیش کیں ۔ مگر ظاہر ہے کہ صرف خود تراشیدہ تاویلات سے ایسا بڑا دعویٰ جو عقل اور نقل کے برخلاف ہے ثابت نہیں ہوسکتا۔ مثلاً یہ لکھنا کہ ”عمانوایل نام رکھنا یہ یسوع کے حق میں پیشگوئی ہے۔ حالانکہ یہود نے بڑی صفائی سے ثابت کر دیا ہے کہ یسوع کی پیدائش سے مدت پہلے یہ پیشگوئی ایک اور لڑ کے کے حق میں پوری ہو چکی ہے۔ اور مثلا یہ کہنا کہ الوہیم کا لفظ جو جمع ہے تثلیث پر دلالت کرتا ہے۔ حالانکہ یہود نے کھلے کھلے طور پر ثابت کر دیا ہے کہ الوہیم کا لفظ توریت میں فرشتہ پر بھی بولا گیا ہے۔ اور ان کے نبی پر بھی اور بادشاہ پر بھی ۔ اور لفظ الوہیم سے صرف تین شخص ہی کیوں مراد لئے جاتے ہیں کیونکہ جمع کا صیغہ تین سے زیادہ سینکڑوں ہزاروں پر بھی تو دلالت کرتا ہے۔ سوان بے ہودہ تاویلات سے بجز اپنی پردہ دری کرانے کے اور کیا آتھم کے لئے نتیجہ نکلا تھا۔ مگر عیسائی بھی عجیب قوم ہے کہ اتنی ذلتیں اٹھا کر پھر بھی شرمندہ نہیں ہوتی۔ قوله ” قادیانی صاحب باضابطہ مباحثہ میں کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے آتھم صاحب کے مرنے