انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xl of 448

انجام آتھم — Page xl

میں نہیں‘‘ ’’عیسائیوں کا فرضی یسوع‘‘ اور ’’پادریوں کے یسوع‘‘ کے الفاظ تحریر کئے ہیں اور تمام بڑے بڑے علماء اس طریق پر کلام کرتے چلے آئے ہیں کہ مخاطب کے عقائد باطلہ کے مطابق اُس کے بزرگ کو فرض کر کے بعض اوقات بات کی جاتی ہے۔چنانچہ سب جانتے ہیں کہ حضرت علیؓ سُنیوں اور شیعوں کے ایک ہی ہیں۔لیکن مولانا جامی ایک حکایت لکھتے ہیں کہ ایک شیعی نے ایک سُنّی فاضل سے دریافت کیا کہ علیؓ کی تعریف کرو تو اُس نے پوچھا ’’کونسا علیؓ؟ وہ علی جس پر تُو اعتقاد رکھتا ہے یا وہ علی جس پر میں اعتقاد رکھتا ہوں تو اُس کے اِس جواب پر کہ مَیں تو صرف ایک ہی علی جانتا ہوں۔اس عالم نے دونوں کے علی کے مختلف اوصاف بیان کئے۔(دیکھو سِلسلۃ الذھب بر حاشیہ نفحات الانس مطبوعہ نولکشور کانپور صفحہ ۱۰۲تا۱۰۴) اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انجا م آتھم میں تحریر فرمایا:۔’’یاد رہے کہ یہ ہماری رائے اُس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نبیوں کو چور اور بٹمار کہا۔اور خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۱۳) الغرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزدیک جیسا کہ اوپر حوالے درج کئے جا چکے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سچّے اور برگزیدہ نبی اور رسول تھے اور آپؑ اُن کے نبی اور رسول ہونے پر ویسے ہی ایمان رکھتے تھے جیسا کہ دوسرے رسولوں پر۔اور آپؑ نے اُن کے حق میں کوئی توہین اور بے ادبی کا کلمہ نہیں لکھا اور نہ ایسا کر سکتے تھے۔کیونکہ آپ اُن کے ہمنام اور مثیل ہونے کے مدعی تھے۔خاکسار جلال الدین شمس رمضان المبارک ۱۳۸۲ھ مطابق فروری ۱۹۶۳ء۔ربوہ