انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 448

انجام آتھم — Page 330

۳۳۰ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آنقم ایسا ہی ذرہ انصاف کرنا چاہیئے کہ کس قوت اور چمک سے کسوف اور خسوف کی پیشگوئی پوری ہوئی ۔ اور ہمارے دعوئی پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الد جالین عبد الحق غزنوی اور اس کا تمام گروه - عليهم نعال لعن الله الف الف مرہ ۔ اپنے نا پاک اشتہار میں نہایت اصرار سے کہتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی اے پلید د جال! پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔ لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔ پیشگوئی کے اصل لفظ جو امام محمد باقر سے دار قطنی میں مروی ہیں یہ ہیں ۔ ان لـمـهـدیـنـا آیتین لم تكونا منذ خلق السماوات والارض ينكسف القمر لاوّل ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه الخ | یعنی ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں ۔ اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت ظہور میں نہیں آئے ۔ اور وہ یہ ہیں کہ مہدی کے ادعا کے وقت میں چاند کو اس پہلی رات میں گرہن ہوگا جو اس کے خسوف کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرھویں رات اور سورج اس کے گرہن کے دنوں میں سے اس دن گرہن ہو گا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیں تاریخ کو اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی کے لئے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ اس کے دعوی کے وقت میں خسوف کسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ خسوف کسوف قانون قدرت کے بر خلاف ظہور میں آئے گا اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوا ہوگا کہ اس نے مہدویت یا رسالت کا دعوی کیا ہو اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں خسوف کسوف ہوا ہو ۔ پس ان مولویوں کو چاہیئے تھا کہ اگر اس پیشگوئی کی صحت میں شک تھا تو ایسی کوئی نظیر سابق زمانہ میں سے بحوالہ کسی کتاب کے پیش کرتے جس میں لکھا ہوتا کہ پہلے ایسا دعوی ہو چکا ہے اور اس کے وقت میں ایسا خسوف کسوف بھی ہو چکا ہے مگر اس طرف تو انہوں نے رخ بھی نہیں کیا۔ اور یہ احمقانہ عذر پیش کر دیا ہے کہ اس پیشگوئی کے یہ معنی ہیں کہ چاند کو رمضان کی پہلی رات میں گرہن لگے گا ۔ اور پندرہ تاریخ کو سورج گرہن ہوگا ۔ لاحول ولا قوه ان احمقوں نے یہ معنی کسی لفظ سے سمجھ لئے اے نادانوں ! آنکھوں کے اندھو! مولویت کو بدنام کرنے والو! ذرہ سوچو!