انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 448

انجام آتھم — Page 329

۳۲۹ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم اب دیکھو یہ تین سو تیرہ مخلص جو اس کتاب میں درج ہیں یہ اسی پیشگوئی کا مصداق ہے جو احادیث (۴۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے۔ پیشگوئی میں کدعہ کا لفظ بھی ہے جو صریح قادیان کے نام کو بتلا رہا ہے پس تمام مضمون اس حدیث کا یہ ہے کہ وہ مہدی موعود قادیان میں پیدا ہوگا۔ اور اس کے پاس ایک کتاب چھپی ہوئی ہوگی ۔ جس میں تین الستوتیرہ اس کے دوستوں کے نام درج ہوں گے۔ سو ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات میرے اختیار میں تو نہیں تھی کہ میں ان کتابوں میں جو اس زمانہ سے ہزار برس پہلے دنیا میں شائع ہو چکی ہیں اپنے گاؤں قادیان کا نام لکھ دیتا۔ اور نہ میں نے چھاپہ کی کل نکالی ہے تا یہ خیال کیا جائے کہ میں نے اس غرض سے مطبع کو اس زمانہ میں ایجاد کیا ہے۔ اور نہ تین سو تیرہ مخلص اصحاب کا پیدا کرنا میرے اختیار میں تھا بلکہ یہ تمام اسباب خود خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں تا وہ اپنے رسول کریم کی پیشگوئی کو پورا کرے۔ مگر اس زمانہ کے مولویوں کی حالت پر سخت افسوس ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو ۔ آتھم کی نسبت کیسی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی ۔ خدا تعالیٰ کی الہامی شرط کے موافق اول آتھم سودائیوں کی طرح ڈرتا پھرا۔ اور بباعث شدت خوف شرط سے فائدہ اٹھایا۔ آخر بیا کی کی حالت میں خدا تعالی کے قطعی الہام کے موافق واصل جہنم ہوا ۔ اور یہی پیشگوئی تھی جس کی براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں بھی اب سے سترہ برس پہلے خبر دی گئی تھی ۔ سوجیسا کہ اس پیشگوئی کی تکذیب میں پادریوں نے جھوٹ کی نجاست کھائی۔ عبد الحق اور عبدالجبار غزنویان و غیره مخالف مولویوں نے بھی وہ نجاست کھائی اور جیسا کہ عیسائیوں نے اسلام پر حملہ کیا انہوں نے بھی اسلام پر حملہ کیا۔ کیونکہ یہ نشان اسلام کی تائید میں تھا۔ سو ان لوگوں نے اسلام کی کچھ پرواہ نہ کی اور کچھ بھی حیا اور شرم اور تقویٰ سے کام نہ لیا۔ اسی لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا نام یہودی رکھا۔ اگر یہ لوگ آتھم کے بارے میں کوئی بچی نکتہ چینی کرتے تو ہمیں کچھ افسوس نہ تھا مگر ان لوگوں نے تو اس سچائی پر تھو کا جو آفتاب کی طرح چمک رہی تھی ۔ عبد الحق غزنوی بار بار لکھتا ہے کہ پادریوں کی فتح ہوئی ۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی ۔ اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی ۔ اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے۔ اے خبیث کب تک تو جئے گا۔ کیا تیرے لئے ایک دن موت کا مقرر نہیں ۔