انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 448

انجام آتھم — Page 317

۳۱۷ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ۳۳ کہ عبد الحق نے مباہلہ کے بعد کونسی عزت دنیا میں پائی۔ کونی قبولیت اس کی لوگوں میں پھیلی۔ کونسے مالی فتوحات کے دروازے اس پر کھلے۔ کون سی علمی فضیلت کی پگڑی اس کو پہنائی گئی ۔ صرف فضول گوئی کے طور سے ایک بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تھا کہ تا یہی مباہلہ کا اثر سمجھا جائے ۔ مگر اس کی بد بختی سے وہ دھوئی بھی باطل نکالا۔ اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔ مگر اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے میرے الہام کو پورا کر کے مجھے لڑ کا عطا کیا۔ حمد یہ دن ابرکتیں مباہلہ کی ہیں جو میں نے لکھی ہیں۔ پھر کیسے خبیث وہ لوگ ہیں جو اس مباہلہ کو بے اثر سمجھتے ہیں۔ فعليهم ان يتدبّروا ويفكروا في هذه العشرة الكاملة بالآخر ہم دوبارہ ہر ایک مخالف مکفر مکذب پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مباہلہ کے میدان میں آویں اور یقیناً سمجھیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے عبد الحق کے مباہلہ کے بعد یہ دس قسم کا ہم پر انعام واکرام کیا۔ اور اس کو ذلیل کیا۔ اور اس کا بیٹے کا دعوی بھی جھوٹا نکلا۔ اور کوئی عزت اس کو حاصل نہ ہوئی۔ اور خدا تعالیٰ نے اس کے تمام دعاوی کو رد کیا۔ اس سے بڑھ کر اس مباہلہ میں ہوگا۔ میں نے اس روز بد دعا نہیں کی۔ کیونکہ وہ ناسمجھ اور غبی تھا۔ اور اس کی جہالت اس کو قابل رحم ٹھہراتی تھی مگر اب میں بددعا کروں گا۔ سوچاہیئے کہ ہر یک مباہلہ کی درخواست کرنے والا اپنی طرف سے چھپا ہوا اشتہار شائع کرے۔ اور یہ ضروری ہوگا کہ مباہلہ کرنے والا صرف ایک نہ ہو۔ بلکہ کم سے کم دین ہوں۔ اور چونکہ مباہلہ کے لئے ہر یک شخص بلایا گیا ہے خواہ پنجاب کا ہو یا ہندوستان کا۔ یا بلاد عرب کا یا بلا د فارس کا۔ اس لئے یہ مشقت مخالفوں پر جائز نہیں رکھی گئی کہ وہ دور دراز سفر کر کے پہنچیں بلکہ حسب منطوق وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ کو یہ تجویز قرار پائی ہے کہ ہر ایک شخص اشتہارات کے ذریعہ سے مباہلہ کرے۔ مگر یہ شرط ضروری ہے کہ جو الہامات میں نے رسالہ انجام آتھم میں صفحہ ۵۱ سے صفحہ ۶۲ تک لکھے ہیں ۔ وہ کل الہامات اپنے اشتہار مباہلہ میں لکھے۔ اور محض حوالہ نہ دے بلکہ کل الہام صفحات مذکورہ کے اشتہار میں درج کرے۔ اور پھر بعد اس کے عبارت ذیل کی دعا اس اشتہار میں لکھے۔ اور وہ یہ ہے دعا اے خدائے علیم وخبیر میں جو فلاں ابن فلاں ساکن قصبہ فلاں ہوں اس شخص کو لا عبد الحق غزنوی نے ۳ شعبان ۱۳۱۴ھ کو اس لعنت کی سیاہی کو دھونے کیلئے جو اس کے منہ پر جم گئی ہے ایک اشتہار دیا ہے اس اشتہار کا جواب اس ضمیمہ میں کامل طور پر آچکا ہے صرف دو باتیں قابل ذکر ہیں ۔ اول یہ کہ وہ عربی میں مقابلہ کرنے کے لئے اپنے تئیں تیار ظاہر کرتا ہے۔ بہت خوب ۔ یہی نشان دیکھ لے میں بار بارلکھ چکا ہوں کہ میں نے اپنے مسیح موعود ہونے کا یہ ایک نشان ٹھہرایا ہے ۔ پس میں مغلوب سے صرف یہی اقرار چاہتا ہوں نہ یہ کہ وہ میری عربی دانی کا اقرار کرے۔ سو اس کو چاہئے کہ دس مولویوں کی گواہی سے حلقاً یہ اشتہار شائع کرے کہ اگر میں عربی فصیح بلیغ میں اس پر غالب آ گیا تو وہ بلا توقف اسی مجلس میں میرے مسیح موعود ہونے کا اقرار کر کے مجھ سے بیعت کر لے گا۔ اب اگر اس مضمون کا اشتہار نہ دے تو لعنة الله عليه في الدنيا والآخرة ۔ اور مباہلہ کے لئے گود اس آدمی کی شرط ہے لیکن اگر صرف عبدالجبار اور عبد الواحد کو ساتھ ملالے تب بھی مجھے منظور ہے ۔ منہ الحج : ٢٩ البقرة : ١٨٦