انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 448

انجام آتھم — Page 316

۳۱۶ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آنقم ۳۲ ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے ا ہے اس جلسہ کے بارے میں مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ جس رنگ اور نورانیت کی قبولیت میرے مضمون کے پڑھنے میں پیدا ہوئی اور جس طرح دلی جوش سے لوگوں نے مجھے اور میرے مضمون کو عظمت کی نگہ سے دیکھا۔ کچھ ضرورت نہیں کہ میں اس کی تفصیل کروں۔ بہت سی گواہیاں اس بات پر سن چکے ہو کہ اس مضمون کا جلسہ مذاہب پر ایسا فوق العادت اثر ہوا تھا کہ گو یا ملا تک آسمان سے نور کے طبق لے کر حاضر ہو گئے تھے یہ ہر ایک دل اس کی طرف ایسا کھینچا گیا تھا کہ گویا ایک دست غیب اس کو کشاں کشاں عالم وجد کی طرف لے جارہا ہے۔ سب لوگ بے اختیار بول اٹھے تھے کہ اگر یہ مضمون نہ ہوتا تو آج باعث محمد حسین وغیرہ کے اسلام کوسکی اٹھانی پڑتی۔ ہر ایک پکارتا تھا کہ آج اسلام کی فتح ہوئی ۔ مگر سوچو کہ کیا یہ فتح ایک دجال کے مضمون سے ہوئی۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا ایک کافر کے بیان میں یہ حلاوت اور یہ برکت اور یہ تاخیر ڈال دی گئی۔ وہ جو مومن کہلاتے تھے اور آٹھ ہزار مسلمان کو کافر کہتے تھے جیسے محمد حسین بٹالوی، خدا نے اس جلسہ میں کیوں ان کو ذلیل کیا۔ کیا یہ وہی الہام نہیں کہ میں تیری اہانت کرنے والوں کی اہانت کروں گا اس جلسہ اعظم میں ایسے شخص کو کیوں عزت دی گئی جو مولویوں کی نظر میں ایک کافر مرتد ہے۔ کیا کوئی مولوی اس کا جواب دے سکتا ہے۔ پھر علاوہ اس عزت کے جو مضمون کی خوبی کی وجہ سے عطا ہوئی اسی روز وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی جو اس مضمون کے بارے میں پہلے سے شائع کی گئی تھی ۔ یعنی یہ کہ یہی مضمون سب مضمونوں پر غالب آئے گا اور وہ اشتہارات تمام مخالفوں کی طرف جلسہ سے پہلے روانہ کئے گئے تھے۔ شیخ محمد حسین بطالوی اور مولوی احمد اللہ اور ثناء اللہ وغیرہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ سو اس روز وہ الہام بھی پورا ہوا اور شہر لاہور میں دھوم مچ گئی کہ نہ صرف مضمون اس شان کا نکلا جس سے اسلام کی فتح ہوئی بلکہ ایک الہامی پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔ اس روز ہماری جماعت کے بہادر سپاہی اور اسلام کے معزز رکن حتى فى الله مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے مضمون کے پڑھنے میں وہ بلاغت فصاحت دکھلائی کہ گویا ہر لفظ میں ان کو روح القدس مدد دے رہا تھا۔ سو یہ عزتیں اور قبولیتیں ہم کو مباہلہ کے بعد ملیں۔ اب کوئی مولوی ہمیں سمجھاوے حملہ اس جلسہ میں اکثر لوگ زار زار روتے تھے۔ یہ جلسہ اس مضمون کے پڑھنے سے گویا ایک صوفیاء کرام کی مجلس تھی۔ تمام زبا نہیں سکتہ کے عالم میں تھیں اور آنسو جاری تھے اور لذت اور وجد سے دل رقص کر رہے تھے اتمام تقریر کے بعد سب لوگوں نے مسلمانوں کو مبارک باد دی۔ شیخ محمد حسین بٹالوی بھی اس روز طوعاً و کر با قائل ہو گئے کہ یہ تمام تاثیر خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور یہ مضمون اسلام کی فتح کا موجب ہوا سول ملٹری گزٹ لاہور نے ہمارے مضمون کی نسبت کلمات ذیل لکھے ہیں اور سوائے ہمارے مضمون کے اور کسی کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے ' اس جلسہ میں سامعین کی دلی اور خاص دلچسپی میرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے لیکچر کے ساتھ تھی جو اسلام کی حمایت اور حفاظت کے کامل ماسٹر ہیں اس لیکچر کے سننے کے واسطے دور ونزدیک سے لوگوں کا ایک جم غفیر ہو رہاتھا اور چونکہ میرزا صاحب خود تشریف نہیں لا سکتے تھے اس لئے یہ لیکچر ان کے ایک لائق شاگرد منشی عبد الکریم فصیح سیالکوٹی نے پڑھ کر سنایا۔ ۲۷ / تاریخ کو یہ لیکچر ساڑھے تین گھنٹہ تک ہوتا رہا اور عوام الناس نے نہایت ہی خوشی اور توجہ سے اس کو سنا۔لیکن ابھی صرف ایک سوال ختم ہوا۔ مولوی عبد الکریم نے وعدہ کیا کہ اگر وقت ملا تو باقی کا بھی سنادوں گا اس لئے اگر کٹو کمیٹی اور پریسڈنٹ نے یہ تجویز کر لی ہے کہ ۲۹ تاریخ کا دن بڑھا دیا جائے انتہی چنانچہ ہمارے مضمون کے لئے بخوشی ایک دن اور بڑھایا گیا اور باقی مضمون بھی سامعین نے اسی ذوق و شوق سے سنا اخبار آبزرور کے الفاظ ہمارے مضمون کی نسبت سول کے الفاظ جیسے ہی ہیں ۔ منہ