انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxx of 448

انجام آتھم — Page xxx

سے بَری نہیں ہے کہ اُس نے حق کو علانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا۔‘‘ (ضیاء الحق۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۶۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس سلسلہ میں سات اشتہارات شائع کئے۔آخری ساتواں اشتہار جو آتھم صاحب سے مطالبہ قسم کے سِلسلہ میں دیا گیا اُس کی تاریخ ۳۰؍ دسمبر ۱۸۹۵ء ہے۔اس کے بعد آتھم صاحب کا انکار کمال کو پہنچ گیا اور اس کے بعد ہم نے تبلیغ کو چھوڑ دیا اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کا انتظار کرنے لگے۔سو آتھم صاحب نے اس ساتویں اشتہار کی اشاعت کے بعد سات مہینے ختم نہ کئے تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق بسزائے موت اسے ہاویہ میں گرا دیا۔جیسے اُس نے دُنیا سے حق کو چھپایا تھا خدا تعالیٰ نے اُسے دنیا کی نظروں سے زمین کے نیچے چھپا دیا۔اُس کی موت سے فریق مخالف میں صف ماتم بچھ گئی۔بلکہ سُنا گیا ہے کہ ایک عیسائی بھولے خاں پر اس کی موت کی خبر اس قدر شاق گذری کہ اُس نے کہا یقیناًاب میرا جینا مشکل ہے۔چنانچہ دل پر سخت صدمہ پہنچنے کی وجہ سے وہ مر ہی گیا۔اور اِس پیشگوئی کے پورا ہونے سے ایک تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ گویا مہدی کے وقت عیسائیوں سے کچھ مناظرہ واقع ہو گا۔جو بعد میں ایک فتنۂ عظیمہ کی طرح ہو جائے گا۔اُس وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی کہ حق آلِ مہدی میں ہے۔اور شیطان سے یہ آواز آئے گی کہ حق آلِ عیسیٰ کے ساتھ ہے۔یعنی عیسائی سچّے ہیں۔لیکن آسمانی آواز درست ہو گی کہ حق آلِ مہدی میں ہے۔یعنی فتح اسلام کی ہو گی نہ کہ عیسائیوں کی۔اِسی طرح اِس پیشگوئی سے قریباً سولہ سال پہلے کے وہ الہامات جو براہین احمدیہ میں طبع شدہ تھے پورے ہوئے جن میں عیسائیوں کے ایک مکر کا اور پھر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مل کر ایک فتنہ برپا کرنے کا ذکر ہے۔(دیکھئے تفصیل رُوحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۹۳ و جلد ھٰذا صفحہ ۲۸۶تا۲۹۰ و حاشیہ صفحہ ۳۰۵، ۳۰۶) آتھم کے مر جانے کے بعد بھی جب عیسائی اور اُن کے ہم نوا مولوی یہ کہنے سے باز نہ آئے کہ آتھم سے متعلقہ پیشگوئی غلط نکلی اور عیسائیوں کی فتح ہوئی تو آپؑ نے ’’‘‘ میں لکھا۔’’آتھم کے معاملہ میں کسی پادری صاحب یا کسی اور عیسائی کو شک ہے اور خیال کرتا ہو کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو لازم ہے کہ مجھ سے مباہلہ کرے‘‘ (۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳۲)