انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 448

انجام آتھم — Page 66

روحانی خزائن جلدا ۶۶ رسالہ دعوت قوم ۲۲ تا میری ذلت ظاہر ہو اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں۔ اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے ۔ لیکن اے خدائے علیم و خبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں۔ اور تیرے منہ کی باتیں ہیں۔ تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجزوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا۔ اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر ۔ اور جب میں یہ دعا کر چکوں تو دونوں فریق کہیں کہ آمین ۔ ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہر یک شخص جو مباہلہ کیلئے حاضر ہو جناب الہی میں یہ دعا کرے کہ اے خدائے علیم و خبیر ہم اس شخص کو جس کا نام غلام احمد ہے در حقیقت کذاب اور مفتری اور کا فر جانتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص در حقیقت کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین ہے اور اس کے یہ الہام تیری طرف سے نہیں بلکہ اپنا ہی افترا ہے۔ تو اس امت مرحومہ پر یہ احسان کر کہ اس مفتری کو ایک سال کے اندر ہلاک کر دے تا لوگ اس کے فتنہ سے امن میں آجائیں۔ اور اگر یہ مفتری نہیں اور تیری طرف سے ہے اور یہ تمام الہام تیرے ہی منہ کی پاک باتیں ہیں تو ہم پر جو اس کو کافر اور کذاب سمجھتے ہیں ۔ دکھ اور ذلت سے بھرا ہوا عذاب ایک برس کے اندر نازل کر اور کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر ۔ اور جب یہ دعا فریق ثانی کر چکے تو دونوں فریق کہیں کہ آمین ۔ اور یاد رہے کہ اگر کوئی شخص مجھے کذاب اور مفتری تو جانتا ہے مگر کافر کہنے سے پر ہیز رکھتا ہے تو اس کو اختیار ہوگا کہ اپنے دعائی مباہلہ میں صرف کذاب اور مفتری کا لفظ استعمال کرے جس پر اس کو یقین دلی ہے۔ اور اس مباہلہ کے بعد اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا ہو گیا جس میں جان بری کے آثار نہ پائے جائیں تو لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں گے اور میں ہمیشہ کی لعنت کے ساتھ ذکر کیا جاؤں گا اور میں ابھی لکھ دیتا ہوں کہ اس صورت میں مجھے کا ذب اور مورد لعنت الہی یقین کرنا چاہئے اور پھر اس کے بعد میں دجال یا ملعون یا شیطان کہنے سے ناراض نہیں