انجام آتھم — Page 65
روحانی خزائن جلدا رساله دعوت قوم کذاب اور مفتری سمجھا گیا۔ میں ان کے اشتہاروں میں لعنت کے ساتھ یاد کیا گیا۔ میں ان کی (۶۵) مجلسوں میں نفرین کے ساتھ پکارا گیا۔ میری تکفیر پر آپ لوگوں نے ایسی کمر باندھی کہ گویا آپ کو کچھ بھی شک میرے کفر میں نہیں۔ ہر ایک نے مجھے گالی دینا اجر عظیم کا موجب سمجھا اور میرے پر لعنت بھیجنا اسلام کا طریق قرار دیا۔ پر ان سب تلخیوں اور دکھوں کے وقت خدا میرے ساتھ تھا۔ ہاں وہی تھا جو ہر یک وقت مجھ کو تسلی اور اطمینان دیتا رہا۔ کیا ایک کیڑا ایک جہان کے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے۔ کیا ایک ذرہ تمام دنیا کا مقابلہ کرے گا۔ کیا ایک دروغ گو کی ناپاک روح یہ استقامت رکھتی ہے۔ کیا ایک ناچیز مفتری کو یہ طاقتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ سو یقینا سمجھو کہ تم مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے لڑ رہے ہو ۔ کیا تم خوشبو اور بد بو میں فرق نہیں کر سکتے ۔ کیا تم سچائی کی شوکت کو نہیں دیکھتے ۔ بہتر تھا کہ تم خدا تعالیٰ کے سامنے روتے اور ایک ترساں اور ہراساں دل کے ساتھ اس سے میری نسبت ہدایت طلب کرتے اور پھر یقین کی پیروی کرتے نہ شک اور وہم کی ۔ سواب اٹھو اور مباہلہ کیلئے تیار ہو جاؤ ۔ تم سن چکے ہو کہ میرا دعوئی دو باتوں پر مبنی تھا۔ اول نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر ۔ دوسرے الہامات الہیہ پر ۔ سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا تو ڑ کر پھینک دے۔ اب میرے بناء دعوی کا دوسراشق باقی رہا۔ سو میں اس ذات قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار رد نہیں کر سکتا کہ اب اس دوسری بنا ء کی تصفیہ کیلئے مجھ سے مباہلہ کر لو ۔ اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پر چہ کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گا اور دعا کروں گا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میرا ہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے ۔ یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدتر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر جب تک کہ موت آ جائے ۔