اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 822

اَلھُدٰی — Page 288

روحانی خسته ائن جلد ۱۸ ۲۸۴ الهدى ام فإنهم بسأوا بالشهوات۔ ونسوا رعاياهم ودينهم وما أدوا حق | اس لئے کہ انہوں نے خواہشوں سے اُنس پکڑ لیا اور اپنی رعیت اور دین کو فراموش کر دیا۔ التكفّل والمراعات يحسبون بيت المال كطارف أو تالد ورثوه من اور پوری خبر گیری نہیں کرتے ۔ بیت المال کو باپ دادوں سے وراثت میں آیا ہوا مال سمجھتے الآباء ، ولا يُنفقون الأموال على مصارفها كما هو شرط الاتقاء ۔ ہیں۔ اور رعایا پر اُسے خرچ نہیں کرتے جیسے کہ پر ہیز گاری کی شرط ہے۔ اور گمان کرتے ہیں ويظنون كأنهم لا يُسألون۔ وإلى الله لا يرجعون فيذهب وقت کہ ان سے پرسش نہ ہوگی اور خدا کی طرف لوٹنا نہیں ہو گا سو ان کی دولت کا وقت خواب دولتهم كأضغاث الأحلام والفيء المنتسخ من الظلام ولو اطلعت پریشان کی طرح گذر جاتا ہے یا اُس سایہ کی طرح جسے تاریکی دور کر دیتی ہے اگر تم ان کے على أفعالهم لاقشعرت منك الجلدة۔ واستولت عليك الحيرة۔ فعلوں پر اطلاع پاؤ تو تمہارے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور حیرت تم پر غالب آجائے۔ ففكروا أهؤلاء يشيّدون الدين ويقومون له كالناصرين؟ أهؤلاء سوغور کرو کیا یہ لوگ دین کو پختہ کرتے اور اس کے مددگار ہیں ۔ کیا یہ لوگ گمراہوں کو راہ بتاتے يهدون الضالين۔ ويعالجون العمين؟ كلابل لهم أغراض دون اور اندھوں کا علاج کرتے ہیں۔ نہیں نہیں بلکہ ان کے اغراض اور مقاصد اور ذالک فهـم يـعـمـلـون بهــا مـصبـحـيـن ومـمسين۔ مالهم و ہی ہیں جنہیں صبح اور شام پورے کرتے ہیں۔ انہیں شریعت کے احکام سے نسبت الأحكام الشريعة۔ بل يريدون أن يخرجوا من ربقتها ويعيشوا ہی کیا بلکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ اس کی قید سے نکل کر پوری بے قیدی سے زندگی بسر کریں۔ بالحريّة۔ وأين لهم كالخلفاء الصادقين قوة العزيمة وكالأتقياء اور خلفائے صادقین کی سی قوت عزیمت ان میں کہاں اور صالح پر ہیز گاروں کا سا