اَلھُدٰی — Page 279
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۵ الهدى فإنهم كأثر لعين انقضى۔ وكعكس لصورة في المرآة يُرَى۔ وإنهم ہو جاتے ۔ اس لئے کہ یہ وارث نقش ہوتے ہیں اُس اصل کے جو گزرچکی ہوتی ہے اور گویا عکس اكتحلوا بمرود الفناء ۔ وارتحلوا من فناء الرياء ۔ فما بقى ہوتے ہیں ایک صورت کے جو شیشہ میں نظر آتا ہے۔ ان لوگوں نے فنا کی سلائیوں سے سرمہ شيء من أنفسهم وظهرت صورة خاتم الأنبياء ۔ فكل ما ترون آنکھ میں ڈالا ہوتا اور ریا کاری کے آنگن سے کوچ کر چکے ہوتے ہیں۔ اس طرح پر ان کا اپنا تو منهم من أفعال خارقة للعادة أو أقوال مشابهة بالصحف (۳۳) کچھ بھی رہا نہیں ہوتا اور خاتم الانبیاء کی صورت ہی نمودار ہو جاتی ہے۔سوان لوگوں سے جو کچھ المطهرة فليست هي منهم بل من سيّدنا خير البرية۔ لكن في خارق عادت افعال یا اقوال پاک نوشتوں سے مشابہ تم دیکھتے ہو وہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ الحلل الظلية۔ وإن كنتم في ريب من هذا الشان لأولياء وہ حضرت سید المرسلین (ع) کی طرف سے ہوتے ہیں۔ ہاں وہ ظلیت کے لباسوں میں الرحمان فاقرء وا آية صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ ہوتے ہیں۔ اور تمہیں اولیاء الرحمان کی نسبت ایسی بزرگی اور شان میں شک ہے تو پڑھ لو آیت بالإمعان۔ أتـعـجبــون ولا تشكرون وتــون صـوركـم فـي صراط الذین انعمت عليهم كو فور اور فکر سے۔ کیا تم تعجب کرتے ہو اور شکر گزار نہیں المرايا ثم لا تُفكّرون ألا إن لعنة الله على الذين يقولون إنا ہوتے۔ اور تم آئینوں میں اپنی صورتیں دیکھتے ہو پھر بھی نہیں سوچتے۔ سنو خدا کی لعنت ان پر نأتي بمثل القرآن۔ إنه معجزة لا يأتى بمثله أحد من الإنس والجان۔ جو دعویٰ کریں کہ وہ قرآن کی مثل لا سکتے ہیں۔ قرآن کریم معجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس و جن وإنـه جـمـع مـعـارف ومـحـاسـن لا يجمعها علم الإنسان۔ نہیں لاسکتا اور اس میں وہ معارف اور خوبیاں جمع ہیں جنہیں انسانی علم جمع نہیں کر سکتا۔