اَلھُدٰی — Page 278
الهدى روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۴ وأجدبت بقعتهم۔ وتخلى بعد الإخلاء منتجعهم ونجعتهم۔ ولن اور ان کی زمین خشک سالی کی ماری ہوئی ہے اور خیر و برکت ان سے بالکل جاتی رہی ہے۔ يُرد إليهم جلالة شأنهم حتى يردّوا أنفسهم إلى الحضرة۔ ولن اُن کی خوشحالی اور بزرگی کبھی واپس نہ آئے گی جب تک خدا کی طرف رجوع يُغير ما بهم حتى يُغيّروا ما فى الطوية۔ ولو أن ما في الأرض نہیں لائیں گے اور ان کا برا حال نہیں بدلے گا جب تک اپنی نیتوں کو پاک أنصارا لهم ما كان لهم أن يُعجزوا المرسلين۔ ولو أتوا صاف نہیں کریں گے۔ اور اگر تمام روئے زمین کے باشندے اُن کے مددگار بن جائیں بالأولين والآخرين من دون المتقين۔ ألا ينظرون إلى الذين خدا کے مرسلوں پر بھی غالب نہ آسکیں گے۔ خواہ متقیوں کے سوا اگلے پچھلے لوگوں (۳۱) خلوا من قبلهم هل هم غلبوا وأعجزوا رسل الله أو كانوا کو بھی لیتے آئیں۔ وہ گذرے ہوئے لوگوں کے حال میں غور نہیں کرتے۔ کیا مــن الـمـغـلـوبـيـن۔ ألا إن الأقـلام كـلـهـالـلـه وهـي مـعـجــزة من وہ خدا کے رسولوں پر غالب آگئے تھے یا مغلوب ہوئے تھے۔ سنو ساری قلمیں خدا کے قبضے میں معجزات كتاب مبين۔ ثـم يتـلـقـاهـا الـمـقـربـون عـلـى قـدر اور وہ کتاب مبین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں۔ پھر وہی فلمیں اتباع خير المرسلين۔ فإن المعجزات تقتضى الكرامات آنحضرت (ﷺ) کی پیروی کی قدر پر مقربوں کو عطا ہوتی ہیں اس لئے کہ معجزات چاہتے ہیں ليبقى أثرها إلى يوم الدين وإن الذين ورثوا نبيهم يُعطون کرامات کو تو کہ اُن کا نشان قیامت تک باقی رہے اور اپنے نبی علیہ السلام کے وارثوں کو بطور ظلیت من نعمه على الطريقة الظلية۔ ولولا ذالك لبطلت فيوض النبوّة ۔۔ کے آپ کی نعمتیں مرحمت ہوتی ہیں۔ اور اگر یہ قاعدہ جاری نہ رہتا تو نبوت کے فیض بالکل باطل