اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 822

اَلھُدٰی — Page 269

روحانی خزائن جلد ۱۸ ہے الهدى بريقا كبريق ما في قرابي۔ ثم مع ذالك تُناجینی نفسی فی بعض (۳۱) جیسی چمک اور آب دکھا سکے۔ اور اس پر بھی میرے دل میں کبھی کبھی آتا ہے کہ ممکن ہے کہ الأوقات ان من الممكن أن يكون مدير المنار بريئا من هذه منار کا ایڈیٹر ان الزاموں سے بری ہو اور ممکن الإلزامات۔ ويمكن أنه ما عمد إلى الاحتقار والنطح كالعجماوات۔ اس نے حقارت کا اور چارپایوں کی طرح سینگ سے مارنے کا ارادہ نہ کیا ہو بلکہ بل أراد أن يعصم كلام الله من صغار المضاهات و إنما الأعمال یہ چاہا ہو کہ خدا کی کلام کو مشابہت اور مماثلت کی ذلت سے بچائے اور اعمال موقوف ہیں بالنيات۔ فإن كان هذا هو الحق فلا شك أنه اذخر لنفسه بهذه نیتوں پر۔ پس اگر یہ سچ ہے تو بے شک اس نے ان باتوں سے اپنے لئے بہت سے المقالات كثيرا من الدرجات فإن حُبّ كلام الله يُدخل في الجنّة۔ ور جے اکٹھے کر لئے اس لئے کہ کلام اللہ کی محبت جنت میں لے جاتی ہے اور ڈھال کی طرح ويكون عاصما كالجنّة، وأى ذنب على الذي سبني لحماية الفرقان بچانے والی ہوتی ہے۔ اور اس شخص کا گناہ ہی کیا جس نے مجھے گالی دی فرقان کی حمایت کے لئے واظن انه استشاط من منع الجهاد ووضع الحرب والسيوف الحاشية: الحداد۔ وان الوقت وقت اراءة الآيات لازمان سل المرهفات۔ ولاسيف الاسيف الحجج والبينات۔ فلاشك ان الحرب لاعلاء الدين في هذه الاوقات۔ من اشنع الجهلات۔ ولا اکراه فـي الـديـن كـمـا لا يـخـفـى عـلـى ذوى الحصـات ۔ منه۔ ترجمه حاشية: مجھے تو یقین ہے کہ وہ غضب میں آیا ہے جہاد کے روکنے اور تیز تلواروں اور لڑائی کے دور کر دینے سے۔ اور اب نشانوں کے دکھانے کا وقت ہے، تلواروں کے کھینچنے کا وقت نہیں اور حجتوں اور تین دلیلوں کی تلوار کے سوا کوئی تلوار نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان دنوں میں دین کے لئے لڑائی کرنا سخت نادانی ہے اور دین میں کوئی اکراہ نہیں جیسا کہ یہ بات دانشمندوں پر پوشید ہ نہیں ۔ منہ