اَلھُدٰی — Page 268
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۴ الهدى ۲۰ والابتهال ۔ حتى بانت أمارة الاستجابة وانجابت غشاوة الاسترابة۔ آخر کار قبول کے نشان ظاہر ہوئے اور شک شبہ کا پردہ پھٹ گیا ووفقت لتأليف ذالك الكتاب فسأرسله إليه بعد الطبع و اور مجھے اس کتاب کی تالیف کی توفیق بخشی گئی ۔ سو میں بعد چھپ جانے اور اس کے بابوں کی تكميل الأبواب۔ فإن أتى بالجواب الحسن وأحسن الرد تحمیل کے اس کی طرف بھیجوں گا۔ پھر اگر منار نے اس کا جواب خوب دیا اور عمدہ رو کیا تو میں عـلـيـه۔ فأحرق كتبى وأقبـل قـدميـه۔ وأعــلـق بـذيله۔ وأكيل الناس اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اس کے پاؤں چوم لوں گا اور اس کے دامن سے لٹک جاؤں گا اور پھر بكيله۔ وها أنا أقسم برب البريّة۔ أؤكد العهد لهذه الألية و لوگوں کو اس کے پیمانہ سے ناپوں گا۔ اور لو میں پروردگار جہان کی قسم کھاتا ہوں اور اس قسم سے إن كَلمَ الأحرار بكلام أشدّ جرحًا من جرح سهام بل هو عہد کو پختہ کرتا ہوں۔ اور شریفوں کا زخمی کرنا کلام سے زخم میں سخت تر ہوتا ہے تیروں کے زخم أشق عليهم من قتلهم بلهذم وحسام ۔ وإن جراحات السنان سے۔ بلکہ نیزہ اور تلوار کے ساتھ قتل کرنے سے بڑھ کر ان پر گراں ہوتا ہے۔ اور یہ پختہ بات الها التيام۔ ولا يلتام ما جرح كلام۔ وأما ما ادعى ہے کہ نیزوں کے زخم تو مل جاتے ہیں پر کلام کے زخم نہیں ملتے۔ لیکن جو اس نے معارف اور من المعارف والفصاحة۔ كما يُفهم من قوله بالبداهة۔ فهي فصاحت کا دعویٰ کیا ہے جیسا کہ ظاہرا اس کے کلام سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس کا نرا دعوی ہی مقالة هـو قـائـلهـا ولا نقبـلـه إلا بعد ثبوت النباهة۔ وما اتظنّى دعوی ہے اور ہم اسے مان نہیں سکتے جب تک وہ اپنی بزرگی کا ثبوت نہ دے اور أن يكتب المنار من معارف كمعارف کتابی۔ ويُرى میرے تو خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ منار میری کتاب جیسے معارف لکھ سکے۔ اور میری تلوار