اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 822

اَلھُدٰی — Page 266

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۲ الهدى أظن فى صاحب المنار إلا ظنّ الخير وكنتُ أخال أنه قال ما قال من کردی ہے۔ مجھے صاحب منار کی نسبت نیک گمان تھا۔ اور میرا خیال تھا کہ اس نے کسی مصلحة لا من إرادة الضير۔ ولكن ظهر على بعد ذالك أنه ما كف مصلحت سے ایسا کہا نہ ضرور دینے کے ارادے سے۔ لیکن پیچھے پتا لگا کہ اس نے زبان کو نہیں اللسان كما هو من سير الكرام والطبائع السعيدة۔ بل أصرّ | روکا جیسے کہ بزرگوں کی عادت اور سعید طبیعتوں کا خاصہ ہوتا ہے بلکہ اس نے اپنے على الازدراء في الجريدة۔ فأكل الحاسدون حصيــدة اخبار میں تحقیر پر اصرار کیا۔ پس حاسدوں نے اُس کے منہ کے اگلے ہوئے زہر کو لذیذ لسانه كالعصيدة۔ وتلقفوا قوله وجدّدوا الخصومة بعد ما کھانے کی طرح کھایا اور اُس کی بات کو قبول کیا اور ختم ہو جانے کے بعد نئے سرے جھگڑا قطعوها كما هو من شيم القرائح البليدة۔ وحسبوا كلمه كالأسلحة | شروع کر دیا جیسے کہ کو دن اجد طبیعتوں کی عادت ہوتی ہے۔ اور انہوں نے منار کی باتوں الحديدة۔ وأشاعوها في الأخبار والجوائب الهندية۔ وكتبوا کو تیز ہتھیار سمجھا اور ہندوستان کے اخباروں میں انہیں شائع کیا۔ اور ایسی باتیں لکھیں كل ما يشق سماعها على الهمم البريئة المبرءة۔ وآذوا قلبى كما جن کا سننا پاک اور بری ہمتوں کو سخت ناگوار ہوتا ہے اور میرے دل کو دکھایا جیسے هي عادة الرذل والسفهاء ۔ وسيرة الأراذل من الأعداء ۔ وكانوا کہ عادت کمینوں اور نادانوں کی اور سیرت سفلہ دشمنوں کی ہوتی ہے۔ اور وہ بڑے گھمنڈ سے يمشون مرحا بالخيلاء والامتطاء ۔ كأنهم ألبسوا من حلل الحبر اتر ا کر اور اکڑ کر چلتے تھے گویا انہیں بڑے اعلیٰ درجہ کی خوبصورت پوشاکیں پہنائی والوشاء ۔ أو فُتِحَت عليهم مدائن أو رُدَّ أحياء هم الميتون گئی ہیں یا بڑے بڑے شہر ان کے قبضہ میں دیے گئے ہیں یا ان کے مرے ہوئے