اَلھُدٰی — Page 265
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۱ الهدى ولكن رأيت أن صاحب المنار ۔ عُظم في أعين هذه الأشرار۔ و آنکھ میں منار کے ایڈیٹر کی بزرگی ہے۔ اور بعض آگ کے لا دوٹوؤں نے تو اس کی شہادت کو أكبر شهادته بعض زاملة النار۔ وكانوا يذكرونها بالعشى و بڑی وقعت دی ہے اور رات دن اسی کا ذکر کرتے ہیں۔ سو مجھے بھی ان کی پوشیدہ باتیں پہنچ الأسحار۔ فبـلـغـنـي مـا يتخافتون۔ وعثرتُ على ما يُسرون و گئیں ۔ اور ان کی سازشوں اور مشورتوں کی اطلاع ملی ۔ اور معلوم ہوا کہ وہ مجھے بنتے اور اس يـأتــمــرون۔ وأُخبرتُ أنهم يضحكون على وفي كل يوم يزيدون۔ میں ہر روز ترقی کر رہے ہیں۔ پس جب میں نے دیکھا کہ وہ جنگل کے سراب پر اور زمین کے فلما رأيتُ أنهم اغتروا بلامع القاع ويرامع البقاع و زادوا (عام) سفید سنگریزوں پر دھوکا کھا گئے ہیں اور دشمنی اور بگاڑ میں بڑھ گئے ہیں اور ڈر پیدا ہوا کہ ان کا في العناد والفساد۔ وخيف أن يعم فتنهم هذه البلاد۔ ورأيت فتنہ ان شہروں میں پھیل جائے گا۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ میری طرف حقارت کی آنکھ سے أنهم يرونني بشزر عينيهم۔ ويصفقون بيديهم۔ ويأخذونني دیکھتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور مجھے ایک کھلونا سمجھتے ہیں۔ اور جنسی کھیل کے لئے مجھے كـالـتـلـعـابـة۔ ويُجعجعون بي للدعابة۔ ويجعلون كلام المنار كحيلة | محبوس کرتے ہیں اور منار کے کلام کو حیلہ بناتے ہیں میرے جاہل بنانے اور خطا کار ٹھہرانے للتجهيل والتخطية والاحتقار شمّرت تشمير من لا اور حقیر جاننے میں تو پھر میں نے بھی ایک پورے مجاہد کی طرح کمر کس لی جو کلہاڑا مارتا يألو جهادًا۔ ويضع فأسا في رأس من رمى الجندل عنادًا ۔ و ہے اُس شخص کے سر میں جو دشمنی سے اس پر پتھر پھینکے۔ قسم اُس کی جس کی رحمت بالذي سبقت رحمته غضبه۔ وفَلّت رأفته عضبه۔ ما كنتُ اس کے غضب پر بڑھ گئی ہے۔ اور جس کی مہربانی نے اُس کی تلوار گند