اَلھُدٰی — Page 254
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۰ الهدى ويعيشون أمام أعين ربهم ۔فائزين وإنهم حجة الله على الأرض بیخ کنی کی جاتی ہے بلکہ وہ اپنے پروردگار کے سامنے با مراد زندگی بسر کرتے ہیں اور وہ زمین پر ورحمة الحق لأهل الأرضين وليست شقوة في الدنيا كإنكار حجتہ اللہ اور اہل زمین کے حق میں خدا کی رحمت ہوتے ہیں۔ اور دنیا میں ماموروں کے انکار المأمورين۔ ولا سعادة كقبول هؤلاء المقبولين۔ وإنهم مفتاح حصن جیسی کوئی شقاوت نہیں اور ان مقبولوں کے مان لینے جیسی کوئی سعادت نہیں۔ اور وہ امن و امان الأمن والأمان وحرز الداخلين فما بال الذي فقد هذا المفتاح وما کے قلعہ کی چابی اور داخل ہونے والوں کی پناہ ہیں۔ تو پھر کیا حال ہوگا اُس کا جس نے اس چابی دخل الحصن وقعد مع المخرجين۔ وإن أشقى الناس رجلان۔۔ ولا کو کھو دیا اور قلعہ میں داخل نہ ہوا اور باہر نکالے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھ رہا۔ اور يبلغ شقاوتهما أحدٌ من الإنس والجان۔ رجلٌ كفر بخاتم الأنبياء ۔ فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بد بخت ہیں اور انس و جن میں سے اُن سا کوئی بھی بد طالع ورجل آخر ما آمن بخاتم الخلفاء ۔ وأبى واستكبر وأساء الأدب عليه نہیں۔ ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا۔ دوسرا وہ جو خاتم الخلفاء پر ایمان نہ لایا اور وترك طريق الحياء۔ وما تأدب مع الله وأهله الموعود وبلغ التوهين انکار کیا اور اکٹر بیٹھا اور اس کی بے ادبی کی اور حیا کی راہ کو چھوڑ دیا اور خدا اور اس کے موعود اہل إلى الانتهاء۔ ولو لم يتولّد لكان خيرا له من سوء العاقبة وسخط کا ادب اور پاس نہ کیا اور تو ہین کو انتہا تک پہنچا دیا۔ اگر ایسا نالائق پیدا ہی نہ ہوتا تو اس حضرة الكبرياء۔ ولسوف يذوق ذواق السب والشتم والازدراء ۔ کے حق میں انجام بد اور خدا کے ناراض کرنے سے بہتر تھا۔ وہ ان گالیوں اور تحقیر کا وإن الساعة آتية لا ريب فيها ثم الذين حتمت على قلوبهم لا ينتهون مزا چکھے گا۔ اور وہ گھڑی ضرور آنے والی ہے پر مہر زدہ دل باز نہیں آتے۔