اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 23
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۳ مباحثہ لدھیانہ کی کسی حدیث سے مخالف اور مبائن پڑے اور کسی طور سے تطبیق نہ ہو سکے تو آپ صاحبان فی الفور کہہ کے دیتے ہیں کہ وہ حدیث صحیح نہیں ہے مگر کمال افسوس کی جگہ ہے کہ یہ مذہب قرآن کریم کی نسبت آپ اختیار کرنا نہیں چاہتے !!! اور اجماع کی نسبت جو آپ نے دریافت فرمایا ہے میں تو پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ ابن صیاد جو مسلمان ہو گیا تھا بیان کرتا ہے کہ لوگ مجھے ایسا کہتے ہیں کہ اس کی شہادت میں کوئی اشتباہ نہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ عام طور پر صحابہ کا یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے ماسوا اس کے حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کا یہ مذہب ہو گیا تھا کہ حقیقت میں ابن صیاد ہی دجال معہود ہے اس صورت میں دوسرے صحابیوں کا خاموش رہنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ وہ اس مذہب کو مان چکے تھے اور اگر ان کی طرف سے کوئی مخالفت اور انکا ر ہوتا تو ضرور وہ انکار ظاہر ہو جا تا۔ پس صحابہ کے اجماع کیلئے اسی قدر کافی ہے۔ بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو قسم کھا کر بیان کرنا کہ در حقیقت ابن صیاد ہی دجال معہود ہے صریح دلیل اجماع پر ہے کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ سے اکیلے نہیں ہوتے تھے اور غالباً جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی ہوگی اس وقت بہت سی جماعت صحابہ کی موجود ہوگی ۔ پس ان کی خاموشی صریح اجماع پر دلیل ہے۔ پھر آپ نے بیان فرمایا ہے کہ شرح السنہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے حضرت اس کے جواب میں اس قدر کہنا کافی ہے کہ آپ لوگوں کے نزدیک تو صحابی کا قول بھی ایک قسم کی حدیث ہوتی ہے گو منقطع ہی سہی۔ صاف ظاہر ہے کہ صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء نہیں کرسکتا اور ڈرنے کی بات ایک ایسی بات ہے کہ جب تک آنحضرت صلعم اشاره یا صراحتا بیان نہ فرماتے تو صحابی کی کیا مجال تھی کہ خود بخود آنجناب پر افترا کر لیتا۔ بلاشبہ اس نے سنا ہو گا تب ہی تو اس نے ذکر کیا سو جو کچھ اس نے سنا۔ اگر چہ آنحضرت صلعم کے الفاظ سے ظاہر نہیں کیا لیکن ایک بچہ کو بھی سمجھ آ سکتی ہے کہ اس نے ضرور سنا تب ہی بیان کیا ۔ پس ظاہر ہے کہ یہ افتر انہیں بلکہ بیان واقعہ ہے۔ کیا آپ اس صحابی پر حسن ظن نہیں رکھتے ؟ اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ بغیر سننے کے ہی اس نے کہہ دیا ! آپ فرماتے ہیں کہ اس نے خیال ظاہر کیا ! میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلعم کے مافی الضمیر پر اس کو کیا علم تھا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ یا صراحتاً آپ ظاہر نہ فرماتے؟ را تم خاکسار غلام احمد عفی عنہ بقلم خود ۲۱ جولائی ۱۸۹۱ء