اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 22
۲۲ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ ۲۰ موضوع قرار نہیں دیا۔ بلکہ اگر کسی حدیث کو میں نے قرآن کریم سے مخالف پایا ہے تو خدا تعالیٰ نے تاویل کا باب میرے پر کھول دیا ہے اور آپ نے یہ سوال جو مجھ سے کیا ہے کہ صحت احادیث کا معیار ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے ۔ میری اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ اس بات کا بار ثبوت میرے ذمہ نہیں۔ بلکہ میں تو ہر ایک ایسے شخص کو جو قرآن کریم پر ایمان لاتا ہے خواہ وہ گذر چکا ہے یا موجود ہے اسی اعتقاد کا پابند جانتا ہوں کہ وہ احادیث کے پر کھنے کیلئے قرآن کریم کو میزان اور معیار اور محک سمجھتا ہوگا کیونکہ جس حالت میں قرآن کریم خود یہ منصب اپنے لئے تجویز فرماتا ہے اور کہتا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ لے اور فرماتا ہے قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدى اور فرماتا ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا ت اور فرماتا ہے هُدًى لِلنَّاسِ وَبَنتٍ مِنَ الْهُدى ہے اور فرماتا ہے انُزِّلَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ ھے اور فرماتا ہے۔ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَضْل ۔ لَا رَيْبَ فِيه کے تو پھر اس کے بعد کون ایسا مومن ہے جو قرآن شریف کو حدیثوں کے لئے حکم مقرر نہ کرے؟ اور جب کہ وہ خود فرماتا ہے کہ یہ کلام حکم ہے اور قول فصل ہے اور حق اور باطل کی شناخت کیلئے فرقان ہے اور میزان ہے تو کیا یہ ایما نداری ہوگی کہ ہم خدا تعالیٰ کے ایسے فرمودہ پر ایمان نہ لادیں؟ اور اگر ہم ایمان لاتے ہیں تو ہما را ضرور یہ مذہب ہونا چاہئے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر ای مشکوۃ وحی سے نور حاصل کر نیوالے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے مخالف ہیں ۔ سو چونکہ مومن کیلئے یہ ایک ضروری امر ہے کہ قرآن کریم کو احادیث کا حکم مقرر کرے اس لئے ثبوت اس بات کا کہ سلف صالحین نے قرآن کریم کو حکم مقرر نہیں کیا آپ کے ذمہ ہے نہ میرے ذمہ۔ اس جگہ مجھے یہ افسوس بھی ہے کہ آپ قرآن کریم کا مرتبہ بخاری اور مسلم کے مرتبہ کے برابر بھی نہیں سمجھتے کیونکہ اگر کوئی حدیث کسی کتاب کو بخاری اور مسلم ہی نوٹ:۔ یعنی بچے اور حقیقی معنوں کا ۔ عوام الناس نے جو علم الہی سے مطلق نا آشنا ہیں تاویل کو مرادف و ہم پلہ تحریف و تسویل کے سمجھ رکھا ہے یہ محض ان کی کو یہ نہی ہے انہیں اس نعت کے معنی خود قرآن کریم سے سمجھنا چاہیے جہاں حق سبحانہ تعالی فرماتا ہے وَمَا يَعْلَمُ تَاوِيْلَةَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلَهُ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا منشا یہ ہے کہ جہاں کوئی ایسی حدیث آئی ہے جو بظاہر خلاف قرآن معلوم ہوتی تھی اللہ جل شانہ نے الہاما مجھ پر اس کے حقیقی معنے کھول دیئے ۔ ایڈیٹر الاعراف : ١٨٦ ٢ البقرة : ١٢١ ٣ ال عمران : ۱۰۴ ٢ البقرة : ۱۸۶ ۵ الشورى: ۱۸ الطارق : ١٤ البقرة : ٣ ال عمران: ۸ ۹ الاعراف:۵۴