اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxv of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxv

بڑی مشکل سے خدا ئے تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُن سے رہائی پائی‘‘ ’’ ایک طرف عوام کو ورغلا کر اور اُن کو جوش دہ تقریریں سُنا کر میرے گھر کے اردگرد کھڑا کر دیا اور دوسری طرف مجھے بحث کے لئے بلایا اور پھر نہ آنے پر جو موانع مذکورہ کی وجہ سے شور مچا دیا کہ وُہ گریز کر گئے اور ہم نے فتح پائی۔‘‘ ’’اب میں بفضلہ تعالیٰ اپنی حفاظت کا انتظام کر چکا ہوں اور بحث کے لئے تیار بیٹھا ہوں۔مصائب سفر اٹھا کر اور دہلی والوں سے ہر روز گالیوں اور لعن طعن کی برداشت کر کے محض آپ سے بحث کرنے کے لئے اے شیخ الکل صاحب بیٹھا ہوں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ۲۲۴ تا ۲۲۶ جدید ایڈیشن) ’’حضرت بحث کرنے کے لئے باہر تشریف لایئے کہ مَیں بحث کے لئے تیار ہوں۔پھر اﷲ جل شانہٗ کی آپ کو قسم دے کر اس بحث کے لئے بلاتا ہوں جس جگہ چاہیں حاضر ہو جاؤں۔مگر تحریری بحث ہو گی۔‘‘(ملخصًا) آپ نے متعدد پیرایوں میں شیخ الکل صاحب کو مباحثہ کے لئے غیرت دلائی۔نیز آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ صعودِ جسمانی سے متعلق وہ جتنی آیات اور احادیث پیش کریں میں فی آیت و حدیث پچیس روپے اُن کی نذر کروں گا۔اِس کے بعد ۲۰؍ اکتوبر کو جامع مسجد دہلی میں انعقاد مجلس کا ہونا قرار پایا اور حفظ امن کے لئے پولیس کا بھی انتظام ہو گیا۔چنانچہ اس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام معہ اپنے بارہ اصحاب کے جامع مسجد دہلی کے بیچ کے محراب میں جا بیٹھے۔جامع مسجد میں اس روز ایک بے پناہ ہجوم تھا۔ایک سو ۱۰۰سے زائد پولیس کے سپاہی اور اُن کے ساتھ ایک یوروپین افسر بھی آ گئے۔پھر مولوی سید نذیر حسین صاحب مع مولوی بٹالوی صاحب وغیرہ کے تشریف لائے جنہیں اُن کے شاگردوں نے ایک دالان میں جا بٹھایا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ الکل کو رقعہ بھیجا کہ مطابق اشتہار۱۷؍ اکتوبر مجھ سے بحث کریں۔یا قسم کھا لیں کہ میرے نزدیک مسیح ابن مریم کا زندہ بجسدِ عنصری اٹھایا جانا قرآن و حدیث کے نصوص صریحہ قطعیہ مبیّنہ سے ثابت ہے۔اس قسم کے بعد اگر ایک سال تک اس حلف دردغی کے اثر بد سے محفوظ رہیں تو میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کروں گا۔لیکن