اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 99
روحانی خزائن جلد ۴ ۹۹ مباحثہ لدھیانہ اب اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جو کچھ صحیحین کے مرتبہ قطع اور یقین کی نسبت مبالغہ کیا گیا ۹۷ ہے وہ ہر گز صحیح نہیں اور نہ اس پر اجماع ہے اور نہ ان کی تمام حدیثیں جرح قدح سے خالی سمجھی گئی ہیں اور نہ وہ مخالفت قرآن کی حالت میں بالا جماع واجب العمل خیال کی گئی ہیں بلکہ ان کی صحت پر ہرگز اجماع نہیں ہوا۔ قولہ ۔ یہ آپ کی عامیانہ بات ہے کہ پندرہ کروڑ منفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے بلکہ عام الاحتفی تو صحیح بخاری کی صحت سے ہرگز انکار نہیں کرتے ۔ اقول ۔ اس کا جواب ہو چکا ہے کہ علماء حنفیہ خبر واحد سے گودہ بخاری ہو یا مسلم قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے اور نہ اس پر زیادت کرتے ہیں اور امام شافعی حدیث متواتر کو بھی بمقابلہ آیت کا لعدم سمجھتا ہے اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد سے بشرط نہ ملنے آیت کے قیاس مقدم ہے۔ دیکھو صفحه ۱۵۰ کتاب نور الانوار اصول فقہ۔ اس صورت میں جو کچھ ان اماموں کی نظر میں در صورت قرآن کے مخالف ہونے کے احادیث کی عزت ہوسکتی ہے عیاں ہے خواہ اس قسم کی حدیثیں اب بخاری میں ہوں یا مسلم میں ۔ یہ ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم اکثر مجموعہ احاد کا ہے اور جب احاد کی نسبت امام مالک اور امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی یہی رائے ہے کہ وہ قرآن کے مخالف ہونے کی حالت میں ہرگز قبول کے لائق نہیں تو اب فرمائیے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک وہ حدیثیں بہر حال واجب العمل ہیں؟ اول حنفیوں اور مالکیوں وغیرہ سے ان سب پر عمل کرائے اور پھر یہ بات منہ پر لائے۔ قولہ ۔ آپ اگر اس دعوے میں بچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین میں سے نام بتا دیں جس نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو غیر صحیح یا موضوع کہا ہو۔ اقول ۔ جن اماموں کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اور یقینی طور پر صحیحین کی احادیث کو واجب اعمل سمجھتے تو آپ کی طرح ان کا بھی یہی مذہب ہوتا کہ خبر واحد سے قرآن پر زیادت مان لینا یا آیت کو منسوخ سمجھ لینا واجبات سے ہے لیکن میں بیان کر چکا ہوں کہ وہ خبر واحد کو قرآن کی مخالفت کی حالت میں ہر گز قبول نہیں کرتے اس سے ظاہر ہے کہ وہ صرف قرآن کریم کے سہارے سے اور بشرط مطابقت قرآن صحیحین کے احاد کو جو کل سرمایہ صحیحین کا ہے مانتے ہیں اور مخالفت کی حالت میں ہر گز نہیں مانتے ۔ آپ تلویح کی عبارت سن چکے ہیں کہ انــمــا يـرد خـبـر الـواحـد مـن معارضة الكتاب یعنی اگر کوئی حدیث احاد میں سے قرآن کے مخالف پڑے گی تو وہ رد کی جائے گی۔ اب دیکھئے کہ وہ نیا جھگڑا جواب تک آپ نے محض اپنی نافہمی کی وجہ سے کیا ہے کہ قرآن سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” عالم “ ہونا چاہیے۔(ناشر ) یہ حاشیہ اگلے صفحہ پر درج کیا گیا۔