اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 98
روحانی خزائن جلد ۴ ۹۸ مباحثہ لدھیانہ کیونکہ ان دونوں کتابوں میں متناقض خبریں موجود ہیں جو ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ان دونوں کی روایت علم قطعی اور یقینی کا موجب ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نقیضین فی الواقع کچی ہوں اور یادر ہے کہ ابن الصلاح اور اس کے رفیقوں کی رائے جمہور فقہاء اور محدثین کے برخلاف ہے کیونکہ یہ ایک امر ممنوع ہے جس کو کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ بخاری اور مسلم کو اپنی روایت کے رو سے دوسروں پر زیادتی ہے اور امام بخاری اور مسلم کی عظمت شان اور ان کی کتابوں کا امت میں قبول کیا جانا اگر مان بھی لیا جاوے تب بھی اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ کتا بیں قطعی اور یقینی ہیں۔ کیونکہ امت نے ان کے مرتبہ قطع اور یقین پر ہرگز اجماع نہیں کیا بلکہ صرف اسقدر مانا گیا اور قبول کیا گیا ہے کہ دونوں کتابوں کے راوی ان شرطوں کے جامع ہیں جو جمہور نے قبول روایت کیلئے لگادی ہیں اور ظاہر ہے کہ صرف استقدر تسلیم سے قطع اور یقین پیدا نہیں ہوتا بلکہ صرف ظن پیدا ہوتا ہے اور یہ بات کہ در حقیقت صحیح بخاری اور مسلم کی مرویات ثابت ہیں اور جس قدر حدیثیں ان میں روایت کی گئی ہیں وہ در حقیقت جرح سے مبرا ہیں اس پر امت کا ہر گز اجماع نہیں بلکہ اس اجتماع کا تو کیا ذکر اس بات پر بھی اجماع نہیں کہ جو کچھ ان دونوں کتابوں میں ہے وہ سب صحیح ہے کیونکہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں میں سے قدری بھی ہیں اور بعض اہل بدع بھی راوی ہیں جنکی روایت قبول نہیں ہوسکتی ۔ پس جب کہ یہ حال ہے تو اجماع کہاں رہا! کیا مرویات قدریہ پر بھی اجماع ہو جائے گا؟ غایت مافی الباب یہ ہے کہ ان کی حدیثیں اصح ہیں اور شروط معتبرہ جمہور پر علی وجہ کمال مشتمل ہیں سو اس سے بھی صرف ایک فن قوی پیدا ہوتا ہے نہ کہ یقین ۔ پھر جو ہم نے بخاری اور مسلم کے صحیحوں کی نسبت بیان کیا ہے یہی حق بات ہے جس کی پیروی کرنی چاہئے اور شیخ ابن الہمام نے کیا اچھا فرمایا ہے کہ یہ قول محد ثین کا کہ مرویات صحیحین ان کے ماسوا پر مقدم ہیں ایک ایسا بے معنی قول ہے جو قابل اعتماد و التفات نہیں اور ہرگز پیروی کے لائق نہیں بلکہ صریح اور صاف تحکم ہے انہیں تحکیمات میں سے جو کھلے کھلے طور پر ان لوگوں نے کئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اصحیت کا مدار عدالت اور ضبط پر ہے تو کیا ایسی کتابیں جن میں یہ شرط پائی جاتی ہے کم درجہ پر ہوں گی۔ سوان دونوں کتابوں کی زیادتی پر حکم لگانا محض تحکم ہے اور تحکم قابل التفات نہیں فسافھم ۔ اور شرح نووی کی جلد ثانی صفحہ ۹۰ میں زیر تشریح اس مسلم کی حدیث کے کہ یا امیرالمؤمنین اقض بيني وبين هذا الكاذب الأثم الغادر الخائن ۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ جب ان الفاظ کی تاویل سے ہم عاجز آجائیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ اسکے راوی جھوٹے ہیں۔