اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 65
مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد۴ من ترک الصلوة کو قرآن پر کیوں عرض کیا تو جواب یہ ہے کہ اس حدیث کی صحت معنے میں ان کو ۶۳ کچھ شک ہو گا یا اس شک کو رفع کرنے کی غرض سے انہوں نے یہ عمل کیا یا یہ کہ باوجود تسلیم صحت وعدم شک انہوں نے حصول مزید طمانیت کیلئے ایسا کیا اور اس حدیث کے اعتقاد کو اور پختہ کیا۔ اس کے جواب میں اگر یہ کہو کہ اس مسئلہ کا عام اصول ہونا خود اس حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے اس صورت میں یہ اصول گویا آنحضرت کا مجوزہ اصول ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا آنحضرت سے ثابت نہ ہونا بلکہ زندیقوں چھپے کا فروں کی بناوٹ ہونا سابقاً بخوبی ثابت ہو چکا ہے لہذا اس مسئلہ کا بحکم نبوی عام اصول ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ دوسری وجہ یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی کے کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ جب تک شیخ طوسی نے اس حدیث کو آیت اقیمو الصلوۃ کے موافق نہ کر لیا تھا تب تک اس کو غیر صحیح یا وضعی سمجھا تھا۔ یا تمہیں سال کے عرصہ تک اس حدیث کی صحت یا عدم صحت کی نسبت کوئی فیصلہ نہ کیا تھا کیوں جائز نہیں کہ وہ اس حدیث کو مان چکے تھے مگر مزید اطمینان کیلئے وہ تمیں برس تک قرآن مجید سے اس کا موافق ہونا تلاش کرتے رہے آپ بچے ہیں تو اس احتمال کو دلیل سے اٹھاویں اور بہ نقل صریح ثابت کریں کہ شیخ طوسی تمیں سال تک اس حدیث کو غیر صحیح یا موضوع سمجھتے رہے یا اس کی صحت میں متردد و متوقف رہے۔ اس احتمال کو بدلائل اٹھا کر اس امر کو به نقل صریح ثابت کرنے کے بغیر آپ کا اس قول شیخ طوسی سے استدلال کرنا اور اس پر یہ درخواست کرنا کہ میں نے ایک آدمی کا نام اپنے موافقین سے بتا دیا۔ اب آپ ضد چھوڑ دیں کمال تعجب کا محل ہے اور شرم کا موجب ثبت العرض ثم النقش آپ شیخ محمد اسلم طوسی سے اس عرض کا عام اصول صحت احادیث ہونا یا تین سال کا خاص کر حدیث من ترک الصلوۃ کی صحت میں متوقف رہنا ثابت کریں تو ہمارے انکار کوضد کہیں۔ یہ نہ ہو سکے تو اس حدیث کی صحت ہی ثابت کریں پھر ہم شیخ محمد اسلم طوسی سے ان امور کا ثبوت بہم حاشیه حاشیه ناظرین مولوی صاحب کی اس ہوگا“ کوخوب یاد رکھیں ۔ آپ نے اسی ہوگا کے باعث مرزا صاحب پر اعتراض کیا ہے۔ یہاں آپ نے نہ معلوم ہوگا کوکس قسم کے یقین کا مثبت قرار دیا ہے ۔ ایڈیٹر اے بچارے مسکین مسلما نو ا اے اللہ تعالیٰ کے بچے مخلص بندو تمہیں زندیق۔ منافق اور چھپے کا فر صرف اس وجہ سے کہا گیا کہ تم نے کلام اللہ کا ادب کیا۔ اس کی قرار واقعی تعظیم کی ۔ تم نے یہ کہا کہ خلاف کتاب اللہ کے جو حدیث ہو وہ قابل اعتبار نہیں ! تم نے یہ بڑا ظلم کیا کہ قرآن کریم کو معیار صحت حدیث ٹھہرایا! پیارو! ظالموں نے تمہیں اس جرم پر کافر اور اور کیا کچھ کہا۔ نہیں نہیں تم قرآن کا ۔ ہمارے محبوب کا ادب کرنے والے ہو۔ تم ہمارے سرتاج ہو۔ آؤ تمہیں سر آنکھوں پر بٹھا ئیں۔ قرآن کے جیسے دشمن تمہیں جو چاہیں کہیں ۔ پر ہم تو تمہیں سچا مسلمان جانتے اور یقین کرتے ہیں۔ ایڈیٹر