اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 316

روحانی خزائن جلد۴ ۳۱۶ الحق مباحثہ دہلی وحدت مجازی وغیرہ پرمحمول کرنے میں کوشش کی ہے مرزا صاحب کے نزدیک رائیگاں ہے ۔ (۱۸۴ یارب مباد کس را مخدوم بے عنایت - قولکم کتاب منصب امامت و صراط المستقیم الخ ۔ شاید آیہ کریمہ وَمَا أَتْكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا آپ کے نزد یک منسوخ ہوگئی ہوگی جو منصب وغیرہ پر چلنے کی ہدایت ہوتی ہے علاوہ بریں منصب امامت اور صراط المستقیم کو تقویت الایمان پر کیا ترجیح ہے جوا سے چھوڑ کر اُن پر چلیں۔ صفحه ۶۲ - تقویت الایمان ملاحظہ فرمائیے کہ اس میں مولانا محمد اسمعیل شہید علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ بلکہ بعض جھوٹے دغا بازوں نے اس بات کو خود پیغمبر کی طرف نسبت کیا ہے کہ انہوں نے خود فرمایا ہے انا احمد بلامیم اور اسی طرح ایک بڑی عبارت عربی کی بنا کر اس میں ایسی ایسی خرافتیں جمع کر کر اس کا نام خطبة الافتخار رکھا ہے۔ اور اس کو حضرت علی مرتضے کی طرف نسبت کیا ہے سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانُ عَظِیم اللہ سارے جھوٹوں کا مونہہ کا لا کرے انتہی ۔ یہ عبارت مولانا مرحوم کی درباره رد لفظ احمد بلامیم نص صریح ہے اس کے مقابلہ میں منصب اور صراط مستقیم کے مضامین مبہم قابل حجت نہیں ہو سکتے بلکہ صحیحین کی حدیث میں آیا ہے رسول صلعم نے فرمایا لا تطروني كما اطرت النصارى عيسى ابن مريم فانّما انا عبده فقولوا عبدالله و رسوله۔ فقط جناب من خاکساروں نے آپ کو قدیمی شفیق تصور کر کے دوبارہ تصدیعہ دیا ہے تا کہ خدشات ہمارے رفع ہو جائیں شاید اگر جناب کے نزدیک کوئی لفظ نا ملائم معلوم ہو تو معاف فرما دیں۔ اگر معاملہ دینی نہ ہوتا تو جو کچھ آپ تحریر فرما دیتے اس کے قبول کرنے میں عذر نہ ہوتا چونکہ یہ معاملہ متعلق دین اور اعتقاد کے ہے اور وجود یوں کو ہم جمیع پیشوایان دین سے مخالف و مخرب شریعت سنتے آئے ہیں خصوص جملہ فرق اسلام سے یہ فرقہ بدترین ہے پھر کیونکر صبر کیا جاتا۔ عریضه بو به شاه و محمد الحق مورخه ۳۰ اگست ۱۸۹۱ء ^ :