اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 315

روحانی خزائن جلد۴ ۳۱۵ الحق مباحثہ دہلی اس آیہ کریمہ کا حال بھی آیت کریمہ وَ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ کا سا ہے فقد مر قولكم كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ الخ ۔ آپ کے نزدیک کسی شے کا ہلاک وفنا ہونا اور اس کا کسی دوسری چیز سے متحد ہو جانا ایک ہی بات ہو گی مع هذا جب ہر چیز کو ہلاک ہونا اور بقول آپ کے ذات باری تعالی سے متحد ہو جانا ضروری ہے تو اس میں جناب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کی کیا خصوصیت ہوئی آپ وحدت الوجود کے مسئلہ کو یہاں کھپانا چاہتے ہیں لیکن آپ کے پیر کا سیاق و سباق کلام اُسے کھنے نہیں دیتا اور آپ اپنے پیر صاحب کا کلام ملاحظہ کیجئے قولکم خلق آدم على صورته الخ۔ مرجع قریب ہوتے ہوتے کیا ضرور ہے کہ بعید کی طرف ضمیر راجع کی جائے مع طذا یہ بھی صفات مختصہ بالنبی الکریم علیہ الصلوۃ والسلام سے نہ ہوگا ذرا تامل کیجئے قولکم اے میرے پیارے الخ ۔ جناب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کے مظہر ہونے میں شک کرنا فی الواقع کسی مومن کا کام نہیں لیکن اور کون سی چیز ہے جو مظہر نہیں ہے۔ ہر چہ بینی بدانکہ مظہر اوست - سبحان اللہ اپنے لئے ابن اللہ ہونے کا دعویٰ اور جناب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے صرف مظہر ہونا جس میں ادنیٰ سے ادنی ممکن آپ کا شریک ہے۔ آفرین باد بریں ہمت مردانہ او۔ حاصل یہ کہ ان اشعار میں وحدت مجازی مراد لینے سے بقرینہ سیاق و سباق کلام مرزا صاحب کے فوقیت علی النبی الکریم علیہ الصلواۃ والسلام ثابت ہوتی ہے اور وحدت حقیقی مقصود ہوتو ۔۔۔ غلات کا مذہب ماننا پڑتا ہے و کلاهما كفر بالاجماع قولكم اس آیہ کے کیا معنے ہوں گے قل ان کان الخ۔ جناب من اس محاورہ اور طرز استعمال میں خدشہ نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب کا اشعار سابقہ میں اتحاد حقیقی مقصود و مراد نہ ہو تو پھر ان اشعار میں کون سی بات ہے جس کے سبب سے کوئی ان کو الحاد اور کفر کی طرف منسوب کرے گا اس شعر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے اشعار سابقہ میں وحدت حقیقی مراد ہے جس پر ان کو خدشہ ہوا کہ علمائے شریعت ملحد کہیں گے پس آپ نے جو کچھ ان کے کلام کو