اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 282
۲۸۲ روحانی خزائن جلده الحق مباحثہ دہلی (۱۵۲) مگر ٹا نیا آپ جو فرماتے ہیں کہ اس کا رڈ منوط ہوگا۔ قولہ امر آخر پر جس کا ذکر او پر ہو چکا اتح۔ اقول اس رو کا جواب بہیچید ان کی تقریر سے اوپر ہو چکا پس فیصلہ شد۔ قولہ میرا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں الخ ۔ اقول آپ کی خاطر سے ہم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کا مطلب صرف اس قدر ہی ہے کہ یہ معنی جو میں نے اختیار کئے ہیں اس طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے مگر یہ تو ارشاد ہو کہ جب آپ کے معنے کی طرف صرف ایک ہی جماعت گئی ہے اور دیگر جماعات صحابہ و تابعین اور ہزار ہا مفسرین محققین دوسرے معنوں کی طرف گئے ہیں اور ان معنوں کو بہ براہین مبرہن کیا ہے اور آپ کے معنوں کو مرجوح طور پر بیان کرتے ہیں تو کیا آپ کے اختیار کر لینے سے ایک معنے مرجوح کو دو معنے قطعی الدلالت ہو سکتے ہیں جو آپ کے غیر پر حجت قطعی ہو سکیں ایسے معنی مرجوح کو اختیار کر کر اپنے غیر پر حجت قطعی گردانا یہ تو صریح ایک تحکم ہے۔قولہ۔ میری ادلہ کا قوی ہونا الخ۔ اقول ان اللہ کا اَوْهَنُ مِنْ بَيْتِ الْعَنْكَبُوت ہونا ثابت ہو چکا ۔ پس یہ آپ کا فرمانا بجائے خود نہیں ہے۔ قولہ آپ نے نون ثقیلہ کے بارہ الخ۔ اقول آیات محکمات جونون ثقیلہ کے بارہ میں لکھی گئی ہیں معہ حوالہ تفاسیر کے وہ قیامت تک قائم رہیں گی اور جو کوئی ان کا مقابلہ کرے گا وہ هَبَاءً منشُورًا ہو جاوے گا۔ قال الله تعالى إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ، قوله جب یہ امر ثابت ہو گیا الخ اقول یہ امر ثابت نہیں ہوا کہ نون تاکید جو معہ لام تاکید کے مضارع میں داخل ہوالتزاماً وہ خالص زمانہ استقبال کیلئے کر دیتا ہے تو پھر تمیم کیونکر قائم نہ رہے گی۔ قولہ آپ نے ان معنے کی تقریر میں جو میرے نزدیک متعین ہیں تھوڑی سی خطا کی ہے الخ اقول یہ معنی غیر صحیح ہیں کیونکہ اس صورت میں ایک ایسے لفظ کی تخصیص جس میں عموم در عموم ہے بلا وجود شخص کے کرنی پڑتی ہے اول تو لفظ اہل کتاب کا ایک ایسا عام لفظ ہے جو ہر زمانہ کے اہل کتاب کو شامل ہے جو اہل کتاب کہ اس بات کے قائل تھے کہ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ * اور جو مصداق ہیں إِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوا فِيْهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ " ان سے لے کر آنحضرت صلحم کے وقت کے اہل کتاب اور جو قیامت تک موجود ہوں گے سب کو شامل ہے ایک عموم تو یہ ہوا اور دوسرا عموم یہ ہے کہ من اهل الكتاب ترکیب نحوی میں صفت واقع ہوا ہے اَحَدٌ مقر ر کی پھر احد جو نکرہ محضہ سے خبر نفی میں واقع ہوا ہے جو مفید استغراق ہے ارشاد الحول میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے ۔ النكرة فى النفى تعم سواء دخل حرف النفى على فعل نحو ما رأيت رجلا او على الاسم نحو لارجل فى الدار ولولم يكن لنفى العموم لما كان قولنا لا اله الا الله نفيا لجميع الآلهة سوى الله سبـخـنــه فتقرر ان المنفية الحجر: ١٠ ۳-۲ النساء: ۱۵۸