اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 281
روحانی خزائن جلده ۲۸۱ الحق مباحثہ دہلی لعموم اللفظ لالخصوص السبب ۔ قاعدہ مسلّمہ اہل اصول کا ہے پس کیا ضرورت ہے کہ اس ۱۵۱ آیت سے سوائے مہاجرین وانصار کے اور کوئی ناصر مراد نہ ہو سکے۔ ثانیاً آنکہ سلمنا کہ مہاجرین و انصار ہی مراد ہیں لیکن جس وقت سے کہ مہاجرین و انصار نے اللہ اور اسکے رسول کی نصرت کرنی شروع کی اسی وقت سے نصرت الہیہ شامل حال ان کے ہوگئی تھی اگر چہ نصرت تامہ کاملہ الہیہ کا ظہور تامہ کسی قدر زمانہ کے بعد عوام پر ظاہر ہوا ہو۔ ثانیا آنکہ یہ جو جناب فرماتے ہیں کہ جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ چیز بعد زمانہ وعدہ کے پائی جاتی ہے۔ مسلمنا لیکن یہ کیا ضرور ہے کہ بعد یت منفصلہ ہی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ بعد یت متصلہ ہو۔ تقدم ذاتی اور تاخر ذاتی کا مسئلہ جو بین المنطقین مشہور و معروف ہے۔ بنظر و لحاظ فضل ورحم ارحم الراحمین کے یہاں پر کیوں نہیں مراد ہو سکتا۔ حرکت مفتاح اگر چه حرکت ید کے بعد متفق ہوتی ہے لیکن ان دونوں حرکتوں میں کوئی فاصلہ زمانہ دراز کا نہیں ہوتا مع ہذا کہتے ہیں کہ حرکت ید مقدم ہے اور حرکت مفتاح متاخر اگر ایسی ہی قبلية و بعدية آپ کی مراد ہے تو پھر یہ سب ایک نزاع لفظی ہوا جو حضرت اقدس مرزا صاحب کو کچھ بھی مضر نہیں ہے اور تراجم ثلاثہ کی کیفیت ناظرین کو پہلے معلوم ہو چکی۔ قوله یہاں بھی مستقبل مراد ہے الخ ۔ اقول وعد اور موعود میں جو قبلیۃ اور بعدیۃ ہے اس کا حال معلوم ہو چکا اور تراجم ثلاثہ کا حال بھی مکر رسہ کر رلکھا جا چکا حاجت اعادہ کی نہیں ہے اور یہاں عادت مستمرہ ہونے میں کون سا محذور لازم آتا ہے بیان فرمایا جاوے۔ قولہ بالا معلوم ہو چکا ۔ اقول نہ کچھ بالا معلوم ہوا اور نہ کچھ زیر معلوم ہوا بلکہ قاعدہ نون ثقیلہ کا بالکل تہ و بالا ہو چکا۔قوله ان لوگوں کی کلام میں کہیں تصریح حال کی نہیں ان اقول آپ تمام قرآن مجید میں سے ایک ہی صیغہ ایسا بتلا ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے یا رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح کردی ہو کہ اس صیغہ میں سوائے استقبال کے اور کوئی زمانہ مراد نہیں تو پھر ہم بھی ایسی تصریح کہیں تلاش کریں گے مولانا صاحب اہل لسان جو صیغے مضارع وغیرہ کو اپنی کلام میں استعمال کرتے ہیں اس کلام میں کہیں یہ تصریح نہیں ہوتی ہے کہ یہاں پر ہماری مراد حال ہے یا استقبال یہ فہم تو اہل لسان اپنے اپنے محاورات کے بموجب سمجھ لیتے ہیں اور غیر اہل لسان حسب قواعد صرف ونحو علم بلاغت وغیرہ سمجھتے ہیں اور ہم نے اوپر ان سب علوم سے ثابت کر دیا کہ ان صیغوں میں حال بھی مراد ہو سکتا ہے اور استمرار بھی مظہری وغیرہ سے مصرحاً گذر چکا کہ فان حقيقة الكلام للحال اور حضرت اقدس نے جو اس آیہ میں معنی استقبال بطور امکان کے تجویز فرمائے ہیں تو صرف الزاما افحام مخالفین کیلئے تجویز کئے ہیں قوله تو جواب یہ ہے کہ بے شک اس صورت میں قاعدہ مقرر کی بنا پر ان اقول یہاں پر یہ تو جناب نے اقرار فرما لیا کہ بے شک اس صورت میں قاعدہ مقرر کی بنا پر البتہ رو نہ ہو سکے گا