اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 267
روحانی خزائن جلدم ۲۶۷ مولوی محمد بشیر صاحب کے پر چہ ثانی پر سرسری نظر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحق مباحثہ دہلی الحمد لوليه والصلوة على نبيه - اما بعد واضح خاطر عاطر ناظرین ہو کہ پر چہائے ثلاثہ محرہ مولوی صاحب کا جواب جو حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ نے اپنے پر چوں میں دیا ہے وہ ایسا کافی وشافی و وافی ہے کہ ہوتے اسکے اب کسی کے جواب کی حاجت نہیں رہی۔ ناظرین جب انصاف سے ملاحظہ فرماویں گے تو یہ امران پر خود بخود واضح ہو جاوے گا۔ کسی کے جتلانے اور بتلانے کی کیا حاجت ہے۔ مثل مشہور ہے مشک آنست که خود بوید نه که عطار گوید۔ لیکن چونکہ مولوی صاحب نے بھوپال میں واپس تشریف لا کر اپنی فتح یابی کا اعلان کیا اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ مکر رسہ کر ر اس میچد ان سے درخواست مباحثہ فرمائی گئی اور مجالس وعظ میں ھل من مبارز کا ڈنکا بجایا گیا اور اس عاجز ہیچید ان کا نام لے لے کر طلب مباحثہ کیا گیا تو اس عاجز پر بھی واجب ہو گیا کہ مولانا صاحب کے امر واجب الا ذعان کی اطاعت کرے اور مولوی صاحب کی فتح یابی پر کچھ نظر کرے کہ فی الحقیقت وہ فتح یابی ہے یا محض آب سرابی ہی ہے اس میں دونوں امر مذکورہ حاصل ہوتے ہیں ، چه خوش بود که برآید بیک کرشمہ دوکار۔ لہذا مولوی صاحب کے پرچہ ثانی پر کچھ اند کے نظر کرتا ہوں ۔ قولہ واضح ہو کہ جناب مرزا صاحب نے بہت امور کا جواب اپنے پر چہ میں نہیں دیا الخ ۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب نے آپ کے مضمون کا جواب ایسا کافی وشافی دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر بجز طوالت پر ملامت کے اور کچھ متصور نہیں۔ ناظرین صورت الحال کو دیکھ کر خود بخود انصاف فرما لیویں گے۔ مثل مشہور ہے کہ اصدق الـمـقـال مانطقت به صورۃ الحال اور آپ کی ابحاث ثلاثہ میں جو اصل اور عمدہ بحث تھی یعنے